سندھ ہائی کورٹ نے نیب کو وسیم اخترکیخلاف درخواست کا جائزہ لے کر تحقیقات کی ہدایت کرتے ہوئے فیصل واوڈاکی درخواست نمٹادی
کراچی(این این آئی) سندھ ہائی کورٹ نے نیب کو میئر کراچی وسیم اختر کے خلاف درخواست کا جائزہ لینے کا حکم دیتے ہوئے فیصل واوڈا کی درخواست نمٹادی، چیف جسٹس نے حکم میں واضح کیا کہ ہم نیب کوحکم نہیں دے رہے، نیب معاملے کا قانون کے مطابق جائزہ لے۔جمعہ کو سندھ ہائیکورٹ میں شہری حکومت کے اربوں روپے کے فنڈز میں مبینہ خورد برد سے متعلق پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا کی درخواست کی سماعت ہوئی ۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے حکم دیا نیب میئر کراچی وسیم اختر کے خلاف فیصل واوڈاکی درخواست کاجائزہ لے۔وکیل فیصل واوڈا نے کہاکہ عدالت نیب کوباقاعدہ تحقیقات کاحکم دے، جس پر عدالت نے واضح کیا ہم نیب کوحکم نہیں دے رہے، نیب معاملے کا قانون کے مطابق جائزہ لے۔نیب درخواست کا جائزہ لینے کے بعد وسیم اختر کے خلاف کارروائی کرسکتا ہے۔ فیصل واوڈا وفاقی وزیر ہیں اور حکومت کا حصہ ہیں، فیصل واوڈا چاہیں تو خود بھی تحقیقات کا کہہ سکتے ہیں۔نیب پراسیکوٹرنے کہاکہ فیصل واوڈا کی درخواست پر قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔وکیل صفائی نے کہاکہ فیصل واوڈا وفاقی وزیر ضرور ہیں لیکن اداروں میں مداخلت نہیں کرتے، نیب کو درخواست پر کارروائی کے لیے ٹائم فریم کا حکم دیں۔چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کہاکہ ہم ایسی کوئی ہدایت نہیں کرسکتے۔چیف جسٹس نے فیصل واوڈاکے وکیل سے مکالمے میں کہاکہ کون کتنا صادق اور امین ہیں،پنڈورا باکس کھل جائے گا، آپ تو وفاقی حکومت کا حصہ ہیں، پھر حکومت کیا کر رہی ہے ،نیب سے کیوں تحقیقات نہیں کراتے ، کرپشن کیخلاف تووفاقی حکومت بھی تحقیقات کراسکتی ہے۔چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا نیب بتائے، نیب کیا قانونی رائے رکھتی ہے، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا عدالت نیب کو جو حکم دیگی قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔بعد ازاں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے شہری حکومت کی مبینہ اربوں روپے کے فنڈز میں خردبرد کے معاملے پر وسیم اختر کے خلاف فیصل واوڈاکی درخواست نمٹا دی۔یاد رہے جولائی 2018 پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا نے شہری حکومت کی مبینہ اربوں روپے کے فنڈز میں خردبرد سے متعلق مئیر کراچی وسیم اختر کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 20 ماہ میں میئر کراچی وسیم اختر کو شہر کے ترقیاتی کاموں کے لیے اربوں روپے جاری کئے گئے ، اس کے باوجود شہر کی حالت نہیں بدلی، ہر شعبے میں کرپشن اور مالی بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ کے ایم سی کے فنڈز کا آزاد آڈیٹ کرانے اور چیئرمین نیب کو وسیم اختر کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی ہدایت کی جائے۔