بلوچستان میں چینی باشندوں کی نقل و حرکت پر پابندی
امروز نیوز)
کوئٹہ)بلوچستان میں کورونا وائرس کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر سینکڑوں چینی باشندوں کی نقل و حرکت پر تا حکم ثانی پابندی عائد کردی گئی ہے۔
گوادر کی بندگارہ اور سونے کے وسیع ذخائر والے ضلع چاغی کے سیندک پروجیکٹ سمیت متعدد منصوبوں پر اس وقت کئی چینی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ حکام کے مطابق بلوچستان میں چینی کمپنیوں کے نمائندوں، کارکنوں اور ان کی سکیورٹی پر مامور
کوئٹہ میں تعینات محکمہ صحت کے ایک سینئر اہلکار شوکت بلوچ کے مطابق پورے بلوچستان میں کورونا وائرس کے خطرےکے پیش نظر ہائی الرٹ بھی جاری کیا گیا ہے۔ میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاو¿ کے حوالے سے بلوچستان سب سے حساس ہے۔ اس وقت تین اضلاع گوادر، لسبیلہ اور چاغی میں چینی ملازمین کی کثیر تعداد موجود ہے۔ اس وائرس سے بچاو¿ کے لہے صوبے کے تمام ہوائی اڈوں پر محکمہ صحت کے اہلکار تعینات کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان حکومت نے طبی مایرین پر مشتمل ایک 14 رکنی خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے، جو کورونا وائرس کے حوالے سے ایڈوائزری جاری کرے گی۔“
شوکت بلوچ نے بتایا کہ کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر بلوچستان کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں قرنطینہ وارڈز قائم کیے جا رہے ہیں اور اس ضمن میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کے لیے ایک مو¿ثر حکمت عملی بھی وضع کر لی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ”بلوچستان میں چونکہ چینی ملازمین کی تعداد بہت زیادہ ہے، اس لیے ان کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا گیا ہے۔ حکومت ہر وہ قدم اٹھا رہی ہے، جس سے اس خطرناک وائرس سے پیدا ہونے والی ممکنہ صورت حال سے نمٹا جا سکے۔ عوام میں کورونا وائرس سے بچاو¿ کی احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ایک آگہی مہم بھی شروع کی گئی ہے، تاکہ شہری خود بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کر سکیں۔“
گوادر کی بندرگاہ پر تعینات ایک وفاقی محکمے کے ایک سینئر اہلکار نوید ظفر نے بتایا کہ گوادر میں چینی ملازمین کی آمد و رفت اور نقل و حرکت محدود کرنے سے پاک چین اقتصادی راہداری یا سی پیک منصوبے کے کام کے حوالے سے تاحال کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ بہت حساس معاملہ ہے اور حکومت اس ضمن میں کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتی۔ یہاں جو چینی ملازمین کام کرتے ہیں، انہیں بتا دیا گیا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں اپنی نقل و حرکت ہر حوالے سے محدود رکھیں۔ جو چینی ملازمین یہاں مختلف منصوبوں پر کام کر ر ہے تھے لیکن اس وقت چھٹیوں پر واپس چین گئے ہوئے ہیں، انہیں بھی وہیں روک دیا گیا ہے اور انہیں تا حکم ثانی واپس آنے کی اجازت نہیں ہو گی۔“
نوید ظفرکا کہنا تھا کہ گوادر پورٹ اتھارٹی کے چند ملازمین جو حال ہی میں چین سے واپس پاکستان آئے تھے، ان کی بھی کراچی میں اسکریننگ کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا، ”طبی ماہرین کی جو ٹیم ہم نے کورونا وائرس کے حوالے سے تشکیل دی ہے، وہ مختلف زاویوں سے کام کر رہی ہے۔ اب تک جو اقدامات کیے گئے ہیں، وہ ہر حوالے سے جامع ہیں۔ یہاں چینی ملازمین کی موجودگی کی وجہ سے کورونا وائرس کے پھیلنے کا زیادہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس لیے بلوچستان میں موجود تمام چینی ملازمین کی اسکریننگ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔“
پاکستان میں چینی ملازمین کی ایک کثیر تعداد ضلع چاغی کے نواحی علاقے سیندک میں سونے اور تانبے کے وسیع تر ذخائر سے متعلق منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے۔ چند روز پہلے سیندک پروجیکٹ کے ملازمین میں سے دو افراد کے کورونا وائرس سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے کا دعویٰ سامنے آیا تھا، تاہم متعلقہ حکام نے اس دعوے کی باقاعدہ تردید کر دی تھی۔ بلوچستان میں اب تک کورونا وائرس کا کوئی ایک بھی کیس رپورٹ نہیں کیا گی.
کورونا وائرس کی وجہ سے قلعہ عبداللہ، کوئٹہ، پشین اور دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے درجنوں تاجر بھی چین کے مختلف حصوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ چین میں موجود ان تاجروں میں سے ایک غلام ولی بھی ہیں، جو الیکٹرانکس کے کاروبار سے منسلک ہیں اور چین سے الیکٹرانک مصنوعات خریدنے کے لیے وہاں گئے تھے۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے بقول بلوچستان میں موجود چینی ملازمین کی سرگرمیوں کو محدود کرنا صوبائی حکومت کی طرف سے کیے گئے حفاظتی انتظامات کا تسلسل ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”اس وقت ہماری ٹیمیں ہائی الرٹ پر ہیں۔ بلوچستان کے تمام ہوائی اڈوں پر کسی بھی وقت آنے والے ہر مسافر کی سکریننگ کی جا رہی ہے۔ اب تک یہاں کورونا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا اور نہ ہی کسی مشتبہ مریض کو کسی بھی ہسپتال میں لایا گیا ہے۔ چینی ملازمین کی آجر کمپنیاں بھی حفاظتی اقدامات کر رہی ہیں۔ کئی کمپنیوں نے اپنے ملازمین کے لیے اس حوالے سے خصوصی ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔“