بلوچوں سے پر امن احتجاج کا حق بھی چھینا جا رہا ہے، بی این پی

0 136

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر غضنفر کھیتران) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں اسلام آباد میں بلوچ طلباءپر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج ‘ طلباءکو تشدد کا نشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس واقعے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے پارٹی کی جانب سے 7مارچ کو کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچ طلباءلاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق جو مظاہرہ کر رہے تھے بلا جواز ان کو تشدد کا نشانہ بنانا ‘ ذہنی کوفت سے دوچار کرنا قابل افسوس عمل ہے نام نہاد جمہوری دور میں بلوچوں سے پر امن احتجاج کا حق بھی چھینا جا رہا ہے

ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کے عزیز و اقارب سراپا احتجاج ہیں عرصہ دراز سے لاپتہ افراد کے لواحقین ذہنی کوفت سے دوچار ہیں اگر آواز بلند کی جاتی ہے تو پولیس گردی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے بی این پی اس متعلق تمام اضلاع کے صدور‘ جنرل سیکرٹریز ‘ آرگنائزر ‘ ڈپٹی آرگنائزر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 7مارچ کو اپنے اپنے اضلاع میں بھرپور انداز میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے احتجاج کو کامیاب بنائیں بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی میں بھی طباءپر تشدد سے متعلق تحریک التواءبھی جمع کی جائے گی اس واقعے کے خلاف بی این پی ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی

پولیس کے جن ارباب و اختیار نے احکامات دیئے ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور تحقیقات کی جائے کہ کون سے عوامل ہیں کہ پولیس نے طلباءکو تشدد کا نشانہ بنایا ان کے خلاف کارروائی کی جائے ایک طرف حکمران جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں مگر عملی طور پر عوام کو آواز بلند کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی پارٹی کبھی بھی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی بلکہ عوام کے ساتھ ہونے والی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کو ترجیح دی گی پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ناانصافیوں ‘ مظالم کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.