ہمارے طلبہ پرامن احتجاج کیلئے پریس کلب بھی نہ جائیں تو پھر کہاں جائیں، ثناء بلوچ

0 59

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر غضنفر کھیتران) رکن اسمبلی ثناء بلوچ کی اسلام آباد پولیس کے بلوچستان کے طلباءپر تشدد سے متعلق توجہ دلاﺅ نوٹس کو نمٹا دیاگیا۔گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناءبلوچ نے اپنا توجہ دلاﺅ نوٹس پیش کرتے ہوئے صوبائی وزیر محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی توجہ مبذول کرائی کہ گزشتہ دنوںاسلام آباد پریس کلب کے باہر اسلام آباد پولیس کی جانب سے بلوچستان کے طالبعلموں کے احتجاجی مظاہرے پر بہیمانہ تشدد

، لاٹھی چارج ، اور نہتے طالب علموں کو زخمی کرنے کی بابت حکومت بلوچستان نے وفاقی حکومت رابطہ اور اس سلسلے میں جو اقدامات اٹھائے ہیں ان کی تفصیل فراہم کی جائے ۔ توجہ دلاﺅ نوٹس پر بات کرتے ہوئے ثناءبلوچ نے کہا کہ صوبائی حکومت فوری طو رپر وفاقی حکومت سے اسلام آباد پولیس کے اس اقدام سے متعلق بات کرے اور اس پر احتجاج کرے افسوس ہے کہ بلوچستان میں تو لوگوں کو دوسرے درجے کا انسان سمجھا جاتا رہا ہے مگر اب جب ہمارے لوگ اپنا پیٹ کاٹ کر بڑی مشکل سے اپنے بچوں کو حصول علم کے لئے اسلام آباد اور لاہور بھیجتے ہیں تو ان کے ساتھ وہاں جو سلوک کیا جاتا ہے

وہ انتہائی افسوسناک ہے ۔ لاہور میں ایک بم دھماکے کے بعد بلوچ اورپشتون طلباءکو جس طرح پکڑ کر ان سے جو رویہ رکھا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے ۔ ہمارے طلبہ اسلام آباد میں اپنے مطالبات کے لئے احتجاج کررہے تھے تو ان پر انتہائی بے رحمانہ تشدد کیاگیا بتایا جائے کہ ہمارے طلبہ اگر پر امن احتجاج کے لئے پریس کلب بھی نہ جائیں

تو پھر وہ کہاں جا کر احتجاج کریں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں ہمارے طلباءکو تحفظ دیا جاتا مگر ان کے ساتھ اس کے برعکس رویہ اختیار کیاگیا انہوںنے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں وفاقی حکومت کو احتجاجی مراسلہ لکھے جس میں واقعے کی تحقیقات طلباءپر تشدد کی مذمت اور ازالے کا مطالبہ کیا جائے ۔بعدازاں توجہ دلاﺅ نوٹس نمٹادیا گیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.