صوبائی حکومت کا بینیظیر ہسپتال سریاب کو قرنطینہ سینٹر بنانے اور اس میں موجود پبلک لائبریری کی ممکنہ بندش کا فیصلہ قبول نہیں۔ نیشنل پارٹی

0 172

کوئٹہ (امروز نیوز)
نیشنل پارٹی کے صوبائی سوشل میڈیا سیکریٹری سعد دہوار بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں سریاب کوئٹہ کے علاقے لوہڑ کاریز میں موجود غیر فعال بینظیر ہسپتال کی بلڈنگ کے حوالے سے آج کے اخبار میں چپھنے والے بیان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آج کے اخبار میں چھپنے والے بیان کے مطابق متعلقہ غیر فعال ہسپتال کے بلڈنگ کو محمکہ صحت کی جانب سے لینے سے انکاری کے بعد حکومت کا اب اسے قرنطینہ سینٹر بنانے کا فیصلہ کیا ہے، واضح رہے اس بلڈنگ میں گزشتہ سال مقامی پڑھے لکھے نوجوانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت متعلقہ بلڈنگ میں پبلک لائبریری بنایا ہے جس میں سریاب کے نوجوان کمیشن کے امتحانات سمیت مختلف تعلیمی سرگرمیاں جاری کی ہوئی ہیں۔ اس سے قبل علاقے میں جرائم پیشہ افراد دنھندناتے پھرتے تھے اور نوجوانوں میں منشیات کا استعمال عام تھا مگر اس لائبریری کے قیام سے علاقے میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوئی ہیں۔
حکومت کا اس بلڈنگ کو قرنطینہ بنانے کے فیصلے نے ایک طرف علاقے کے عین وسط میں قائم آبادی کے زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہیں اور دوسری طرف حکومت کے اس ممکنہ فیصلے سے اس ہسپتال کے بلڈنگ میں قائم لائبریری کی بندش یقینی ہوگئی ہے جس سے براہ راست سینکڑوں نوجوانوں کا مستقبل اور زندگیاں خطرے میں ہیں۔ بلوچستان میں تعلیمی صورتحال پہلے سے ہی انتہائی مخدوش حالت میں ہے، کوئٹہ کے 28 لاکھ آبادی کے لیئے محض چند ایک ناکافی لائبریریاں ہی تو ہیں جو نوجوانوں کی تعلیم و علم کا پیاس بجا رہی ہے اس کے باجود حکومت کی تعلیم دشمن پالیسیاں نوجوانوں کو تعلیم سے محروم کررہی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں بجائے مزید لائبریریوں کے قیام کا، حکومت ان بچھے کچھے لائبریریوں کو بھی ختم کرنے کی پالیسوں پر عمل پھیرا ہے اور ان میں قرنطینہ سینٹرز بنا کر عام آبادی کے زندگیوں اور مستقبل کو خطرے میں جھونک رہی ہیں جس کا نیشنل پارٹی ہرگز اجازت نہیں دیں گی۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ لائبریری کو فوری طور پر متبادل بلڈنگ کی فراہمی تک اسی غیر فعال ہسپتال کے بلڈنگ میں ہی رہنے دیا جائے تانکہ لائبریری کے لیئے ایک الگ بلڈنگ کا قیام ممکن ہوسکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.