پارٹی میں اعتمادکا ووٹ لینےکے بعد بورس جانسن کو پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتمادکا خطرہ

0 84

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اپنی سیاسی جماعت (کنزرویٹیو پارٹی) میں پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد سے تو بچ گئے ہیں تاہم اب انہیں اپوزیشن کی جانب سے پارلیمنٹ میں بھی تحریک عدم اعتماد کے خطرے کا سامنا ہے۔

 برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو ان کی سرکاری رہائش گاہ پر لاک ڈاؤن کے دوران پارٹی کرنے سمیت متعدد اسکینڈلز کے بعد اپنی ہی پارٹی کی جانب سے عدم اعتماد کے ووٹ کا سامنا تھا جس میں وہ بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔

گذشتہ روز حکمران جماعت کے اندر  اپنے ہی سربراہ (بورس جانسن)کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ہونے والی ووٹنگ میں کنزرویٹیو پارٹی کے 359 میں سے 211 ارکان نے ان کے حق میں جب کہ 148 نے ان کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔

بورس جانسن کو عہدے سے ہٹانے کے لیے  180 کنزرویٹیو  اراکین پارلیمنٹ کے ووٹ درکار تھے، 59 فیصدکنزرویٹیو  ایم پیز نے جانسن کے حق میں جب کہ 41 فیصد نے ان کے خلاف ووٹ دیا۔

اب اپوزیشن جماعت لبرل ڈیموکریٹس  نے وزیراعظم کے خلاف پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

لبرل ڈیموکریٹس کا کہنا ہےکہ ایک جھوٹا اور قانون شکن شخص اقتدار سے چمٹا ہوا ہے، بڑھتےاخراجات روکنےکے بجائے بورس جانسن اپنے اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں، تحریک عدم اعتماد موقع ہوگا کہ بورس جانسن کو ڈاؤننگ اسٹریٹ سے نکالا جائے۔

 لبرل ڈیموکریٹس رہنما سر ایڈ ڈیوی کا کہنا ہےکہ کنزرویٹیو پارٹی کے 148 ممبران کو بورس جانسن پر اعتماد نہیں ہے اور امید ہےکہ وہ  اپوزیشن جماعتوں کی حمایت کریں گے۔

سب سے بڑی اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے رہنما سرکیئر اسٹارمر نےکہا کہ ‘حکمران  جماعت کے پاس عوامی مسائل کا کوئی حل نہیں، منقسم کنزرویٹیو پارٹی بورس جانسن کا سہارا بنی ہوئی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ لیبر پارٹی مہنگائی، سیاست اور عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے متحد ہے،لیبرپارٹی ہی ملک کودوبارہ صحیح راستے پر واپس لاسکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.