ایڈمنسٹریٹر کراچی کی بجلی بلز میں میونسپل ٹیکس بحالی کی استدعا مسترد

0 87

 کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کی جانب سے بجلی کے بلوں میں میونسپل ٹیکس بحال کرنے کی استدعا مسترد کردی۔

بجلی کے بلوں میں میونسپل ٹیکس شامل کرنے کے خلاف درخواستوں پر سماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی، جہاں ایڈمنسٹریٹر کراچی کی حکمِ امتناع ختم کرنے کی زبانی استدعا عدالت نے ایک بار پھر مسترد کردی۔ مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ میرے پاس پیسے آئیں گے، میں  دیانت کے ساتھ خرچ کروں گا، آپ لوگ پھر پوچھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں قانون کے مطابق شفافیت کو فروغ دے رہا ہوں۔

جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کے روبرو وکیل جماعتِ اسلامی عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے مؤقف دیا کہ کے ایم سی کا تحریری جواب ہمارے کیس میں نہیں آیا۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ وفاق اور سندھ حکومت کا کیا مؤقف ہے؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وفاق کو لیٹر لکھا ہے ابھی تک جواب نہیں آیا۔

دوران سماعت ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ ایکسائز پراپرٹی ٹیکس جمع کرتا ہے۔ اس کا کے ایم سی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ٹیکس کنزروینسی اور فائر ٹیکس کی مد میں لاگو کیا گیا ہے۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے سیکشن 100 کے تحت تھرڈ پارٹی کو ٹیکس وصولی کی ذمے داری دی جاسکتی ہے۔ ہم نے میونسپل ٹیکس کی مد میں ابھی تک ساڑھے 6 کروڑ روپے جمع کیے ہیں۔

اس موقع پر کے ایم سی سجن یونین کے صدر ذوالفقار شاہ نے عدالت کو بتایا کہ ملازمین بھی بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ جس پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ملازمین تنخواہ بھی لیتے ہیں کام تو کریں۔ کام کررہے ہوتے تو شہر کا یہ حشر نہیں ہوتا۔

جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ پہلی بار ہونے جارہا ہے، اس کے لیے ہم عدالتی معاونین مقرر کردیتے ہیں۔ وکیل کے الیکٹرک نے استدعا کی کہ بیرسٹر صلاح الدین اور فیصل صدیقی مناسب نام ہیں۔ عدالت نے مرتضیٰ وہاب کی حکم امتناع ختم کرنے کی زبانی استدعا ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اور سینئر وکیل منیر اے ملک کو عدالتی معاونین مقرر کردیا۔

عدالت نے سماعت 26 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے عدالتی معاونین اور فریقین کے وکلا کو تیاری کرکے آنے کی ہدایت کردی۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ٹیکس کی وصولی سے متعلق جو قانونی تقاضے تھے پورے کیے گئے۔ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے۔ پچھلے 10 دنوں میں 7 لاکھ 43 ہزار صارفین نے یہ ٹیکس دیا۔ جو پیسہ آیا ہے کراچی کے عوام کی امانت ہے۔ اس پیسے سے سڑکیں پل بنیں گے، نالوں کی صفائی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اس ٹیکس میں رخنہ مت ڈالیں۔ جو لوگ شفایت کیخلاف ہیں وہ اس شفاف نظام کیخلاف ہیں۔ پی ٹی وی کو ہر ماہ 35 روپے دیے جاتے ہیں لیکن کبھی کسی سیاست دان نے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ افغانی کو کچرا اٹھانے کے 300 روپے دینے کو تیار ہیں لیکن قانونی طریقے سے کے ایم سی کو دینے پر تیار نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ ہم سے 23 اکتوبر کو بلدیاتی الیکشن کرانے کے لیے مشاورت نہیں کی گئی۔ دیگر اضلاع سے پولیس آتی ہے اور کل کو کچھ ہوا تو پھر سندھ حکومت سے پوچھا جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.