لاپتہ افراد کی بازیابی تک بلوچستان کے مسائل حل نہیں ہوسکتے، اختر جان مینگل

0 120

کوئٹہ (امروز ویب ڈیسک) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراخترجان مینگل نے کہاہے کہلاپتہ افراد کی بازیابی تک بلوچستان کے مسائل حل نہیں ہوسکتے ،اسٹیبلشمنٹ کو اس مسئلے کا حل نکالنا ہو گا ،اگرطالبان سے بات چیت ترجیح ہوسکتی ہے تو لاپتہ افراد کی واپسی اور بیرون ملک مقیم بلوچوں سے کیوں نہیں ہوسکتی؟ لاپتہ افراد کے معاملات تو کیک کا ٹکڑا ہیں

، لاپتہ افراد سے متعلق میں سپریم کورٹ میں پیش ہواہوں بلکہ پارلیمنٹ میں اس پر آواز بلند کی بلکہ تحریری طورپر مسئلے کا حل دیا لیکن اب تک مسئلہ جوں کا توں ہے، ظلم ظلم ہے چاہے وہ کسی پر بھی ہوں لاپتہ افراد سے متعلق بل محدود نہیں کرینگے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کیا۔ سرداراخترجان مینگل نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے دھاندلی کے خلاف احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکل آئے تھے اور اب ان غمزدہ خاندانوں کے غم کے ساتھ اپنی مایوسی کاموازنہ کرے جن کے خاندان کے افراد لاپتہ ہیں ،کونسا شے زیادہ تکلیف دہ ہیں وہ طاقت جس کیلئے آپ کو منتخب نہیں کیایا پھر اہل خانہ جن کے لوگ لاپتہ ہیں ،

انہوں نے کہاکہ اگر پاکستانی حکمرانوں کی طالبان سے بات چیت ترجیح ہے تو پھر بلوچستان کے معاملات کا حل ،لاپتہ افراد کی واپسی ،بیرون ملک بلوچوں سے بات چیت پر غور کرنا کیک کاایک ٹکڑا ہے بلوچستان جو ملک کا سب سے بڑا اور امیر صوبہ ہے اس حوالے سے تو بہت سے پیشکش موجود ہیں ،سرداراخترجان مینگل نے کہاکہ ظلم ظلم ہے چاہے وہ کسی پر بھی ہوں لاپتہ افراد سے متعلق بل محدود نہیں کرینگے ،بدقسمتی سے ہمارے پاس نمائندگی کی تعداد کم ہیں ہر لاپتہ شخص کے ساتھ برابر کھڑے ہیں چاہے وہ کسی بھی علاقے سے ہوں ،

انہوں نے کہاکہ جب تک ملکی حکمران اور اسٹیبلشمنٹ لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا، لاپتہ افراد سے متعلق میں سپریم کورٹ میں پیش ہواہوں بلکہ پارلیمنٹ میں اس پر آواز بلند کی بلکہ تحریری طورپر مسئلے کا حل دیا لیکن اب تک مسئلہ جوں کا توں ہے اور پھر بھی ہم غدار ہیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.