بلوچستان اسمبلی اجلاس میں حکومتی امداد پر سوال، جے آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ

0 94

کوئٹہ بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد حکومتی امداد اور متاثرین کی داد رسی پر سوال اٹھاتے ہوئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا ،ایوان میں صوبائی مشیر داخلہ ضیاءلانگو کی اراکان اسمبلی ظہور بلیدی اور سلیم کھوسہ کے درمیان معمولی نوق جوق اور سخت جملوں کا تبادلہ خیال ہوا ،بلوچستان صوبائی اسمبلی کا اجلاس 2گھنٹے 10منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر موسی خیل کے زیر صدارت شروع ہوا ،اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی قادر نائل کی جانب سے عبدالخالق ہزارہ کے بیٹے کی وفات پر فاتحہ خوانی کی اپیل کی جس پر ڈپٹی اسپیکر نے عبدالخالق ہزارہ کے بیٹے کیلئے فاتحہ خوانی کی اس کے بعد پارلیمانی سیکرٹری خلیل جارج نے پوائنٹ آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ملکہ الزبط دوئم ایک عظیم خاتون تھی انہوںنے انسانیت کی خدمت کی ،ان کے رحلت پر میں ان کیلئے دعا پڑھتا ہوں جس پر انہوں نے دعا پڑھی ،پوائنٹ آرڈر پر پشتونخوامیپ کے پارلیمانی لیڈر نصر اللہ زیرے نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ صوبے کے 34میں سے 32اضلاع طوفانی بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں،زراعت ،لائیو اسٹاک تباہ ہوچکے ہیں بڑے پیمانے پر جانی نقصانات ہوئے ہیں لوگوں کے گھر منہد م ہوچکے ہیں کوئٹہ سے لیکر قلعہ سیف اللہ ،زیارت ،نصیر آباد ،جعفرآباد ،پنجگور ،مستونگ،پنجپائی سمیت صوبے کے 32اضلاع میں تباہی مچائی ہے ہنہ اوڑک کا نقشہ ہی تبدیل کردیا ،مشرقی بائی پاس ،اغبرگ ،کچلاک میں بھی سیلابی ریلوں نے تباہی مچائی ،اسمبلی اجلاس کے دوران ایک پورا دن سیلاب کی تباہ کاریوں پر بحث کی جائیں ،جس پر ڈپٹی اسپیکر نے اراکین اسمبلی سے جمعرات کو سیلاب کی تباہ کاریوں کے حوالے سے اراکین اسمبلی سے رائے مانگی ،اراکین اسمبلی نے رائے کی بجائے بحث شروع کی ،رکن صوبائی اسمبلی ظہور بلیدی نے کہاکہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی لمبی فہرست ہیں آج بھی بہت سے لوگ کھلے آسمان تلے پڑے ہیں ،انہیں امداد کی ضرورت ،ٹینڈ وراشن کی ضرورت ،بلوچستان میں 200سے 300ارب روپے کے نقصانات ہوئے ہیں،رکن صوبائی اسمبلی میر سلیم کھوسہ نے پوائنٹ آف آرڈر پر کھڑے ہوکرکھا کہ ضلع صحبت پور حالیہ بارشوں سے مکمل طورپر تباہ ہوچکا ہے ،نصیر آباد میں اکثریت لوگ کچے مکانات میں رہتے ہیں سوفیصد انکے مکانات ختم ہوچکے ہیں ،20لاکھ آباد ی متاثر ہوئی ہے ،لوگوں نے سڑکوں اور اونچے جگہوں پر پناہ لی ہے بہت سے علاقوں میں ابھی تک حکومتی امداد نہیں پہنچا ہے ،مختلف بیماریاں پھیل چکی ہے ،جگہ جگہ پٹ فیڈر اور دیگر کینالوںمیں شگاف پڑچکے ہیں میں مطالبہ کرتاہوں کہ اس کیلئے جی آئی ٹی تشکیل دیا جائے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے ،صوبائی وزیر ایریگیشن محمد خان لہڑی نے کہاکہ سیلاب کا تمام پانی میرے حلقہ انتخاب سے گزر گیا ہے لوگوں کے تیار فصلات تباہ کرتے ہوئے گئی ہے ہمیں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی بجائے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے ،پٹ فیڈر کینال تین چار دنوں تک اس میں پانی بحال ہوگا ،صحبت پور کو کس نے ڈوبایا ضرور اسکی انکوائری کی جائے ،اس موقع پر صوبائی مشیر داخلہ وپی ڈی ایم اے ضیاءلانگو نے کہاکہ ہم نے ڈھائی ہزار راشن ،ٹینٹ صحبت پور میں پہنچایا ہیں لیکن ہمیں زمین چاہیے تھی سلیم کھوسہ نے ہمیں زمین نہیں دی ،جس پر سلیم کھوسہ نے کہاکہ 20لاکھ آباد ی میں ڈھائی ہزار لوگوںکو راشن دینا اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے ،پوائنٹ آف آرڈ پر اظہار خیال کرتے ہوئے اے این پی کے پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی نے کہاکہ ہرنائی میں خالقداد کو شہید کیا گیا اس کا ایف آئی آر بھی ہوا تمام علاقوں میںمظاہرے ہوئے ہیں ،حکومت وضاحت کریںکہ انہوں نے اس حوالے سے کیا کیاہے ،جس پر مشیر داخلہ ضیاءلانگون نے کہاکہ یقینا 14اگست کو خالقداد فائرنگ سے شہید ہوا تھا ہم انکے دفنانے کیلئے چلے گئے پھر ایک اعلی سطحی اجلاس میں تمام مطالبات مانے گئے چیف سیکرٹر ی بلوچستان نے مجھے بتائے کہ تمام مطالبات انکے حل کردیئے گئے ایک دو روز میں آپ سب کو اس حوالے سے آگاہ کیا جائیگا ،اصغر خان اچکزئی نے کہاکہ وفاقی حکومت کے حوالے سے بلوچستان اسمبلی میں جتنے قرارداد پیش کئے جاتے ہیں ،ان پر تو عملدرآمد نہیں ہوتا لیکن صوبائی حکومت کے حوالے سے شاہینہ بی بی مسلم باغ کو ضلع بنانیکا کا قرارداد پیش کیا جسے ایوان نے متفقہ طورپر منظور کرلیا لیکن تاحال اس پر عملدرآمد نہیں ہوا،ڈپٹی اسپیکر نے ظہور احمد بلیدی ،قادر نائل ،عبدالواحد صدیقی اور احمد نواز بلوچ رواں اجلاس کیلئے پینل آف چیئرمین مقرر کیا ،اسمبلی اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی میر زابد ریکی کی جانب سے پوچھے گئے اپنے ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر تعلیم میر نصیب اللہ مری نے کہاکہ مالی سال 2020/21کی بجٹ میں حکم ثانوی تعلیم ضلع واشک کے جاری اسکیمات کیلئے رقم مختص کی گئی ،پشتونخوامیپ کے رکن صوبائی اسمبلی نصر اللہ زیرے کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر تعلیم عبدالواحد صدیقی نے کہاکہ مالی سال 2021/22کے بجٹ میں محکمہ ثانوی تعلیم کیلئے 16تا 18کی کل 5سو آسامیاں تخلیق کی ،نصرا للہ زیرے کی جانب سے پوچھے گئے ایک اور سوال کے جواب میں صوبائی وزیر تعلیم نے کہاکہ مالی سال 2021/22کے بجٹ میں محکمہ ثانوی تعلیم کیلئے ایس ایس ٹی سائنس کی کل ستر اور ایس ایس ٹی جنرل کی کل 109آسامیاں تخلیق کی گئی ہے ڈپٹی اسپیکر نے ثناءبلوچ اور شکیلہ نوید قاضی کے سوالات انکے عدم موجودگی کے سبب نمٹادیئے ،رکن صوبائی اسمبلی میر عارف جان محمد حسنی کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر تعلیم نے کہاکہ مالی سال 2019اور 2020کے دوران کل 25نئے اسکیمات شامل ،پی ایس ڈی پی ہوئے تھے ،انہوں نے کہاکہ ٹیکنیکل کالج ماشکیل ضلع آوران کے ابھی تک ٹینڈر نہیں ہوئے ہیں جس پر عارف محمد حسنی نے کہاکہ میں نے مشکے پولی ٹیکنک کالج کے متعلق سوال نہیں کیا بلکہ پولی ٹیکنک کالج دالبندین کے بارے میں سوال کیا گیا ،رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ زیرے کے جانب سے پوچھے گئے ایک سوال میں جواب میں پارلیمانی سیکرٹری قانون وپارلیمانی امور ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے کہاکہ محکمہ قانون نے سال 2018تا2020کے دوران تین نئی گاڑیاں خریدی ہیں،بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر نے اسمبلی اجلاس جمعرات 22ستمبر تک سہ پہر 3بجے تک ملتوی کردیا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.