بی ایس او کے زیر اہتمام بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کوئٹہ پریس کلب کےسامنے ایک روزہ کیمپ کا انعقاد، بی این پی قائدین کی شرکت

0 104

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی اور ان کےلواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی و یکجہتی کے لیے کوئٹہ پریس کلب کےسامنے ایک روزہ کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔
کوئٹہ ( امروز ویب ڈیسک) اس موقع پہ بی ایس او کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری حفیظ بلوچ، بی ایس او کے مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین صمند بلوچ، ریاض بلوچ، کریم شمبے بلوچ، اقبال بلوچ، بی ایس او کوئٹہ زون کے پریس سیکریٹری ناصر زہری بلوچ، شکور بلوچ کیمپ کے منتظمین سے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں بی ایس او کے سابق چیئرمین واجہ نزیر بلوچ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکٹری موسی بلوچ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن و سابق ایم این اے میرعبدالروف مینگل، بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن غلام نبی مری و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا

کہ جمہوری ممالک میں آٸین شہریوں کے آسانی انکے حقوق اور سہولیات کے لیے بنائيں جاتے ہیں انکے تحت ہر شہری کو تمام بنیادی حقوق حاصل ہوتے ہیں اور ریاست ماں کی مانند انکے حقوق دلانے اور انکا تحفظ کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہیں۔ انک کہنا تھا کہ ریاست کا بلوچ قوم و بلوچستان کے ساتھ رویہ انتہائی افسردہ ہے جوکہ حکمرانی کے نشے اور ایوانوں میں رہ کر بلوچ قوم کےحقوق کچلتے ہیں قدرت کا بلوچ قوم پر احسان ہمیشہ رہا ہے جس نے بلوچستان کو جغرافيائی خدوخال معدنیانیات کے ساتھ ساتھ زہینی یاداشت بھی تیز کی ہے

ہمیں اچھے سے یاد ہے کس کس حکمران نے مجمع و کھلم کھلا بلوچ قوم سے اپنی کمی کوتاہیوں اور ذیادتیوں کی معاف مانگی ہیں۔ موجودہ حکمرانوں کے پاس وقت ہے وہ شہر اقتدار میں ملک کے لیے آہین بنانے والے ملک کو چلانے والے پارلیمنٹ کے سامنے بیٹھے بلوچ ماٶں بہنوں کی دردشنواٸی کرکے انہیں اپنے ہونے کا احساس دلاٸیں اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کرکے لاپتہ افراد کو اپنے بناٸے ہوٸیں

عدالتوں میں پیش کرکے آہینی تقاضے پورے کریں انکا کہنا تھا کے بلوچ رسم رواج اور سوسائٹی میں عورت کو ایک خاص مقام حاصل ہے انکی عزت تقدس کو ہر حالات میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مگر بلوچ ماٸیں بہنیں اپنا غم فریاد اور زیادتی اسلام آباد کے حکمرانوں کو سنانے اور احتجاج ریکارڈ کرونے گٸے مگر انکے ساتھ بدسلوکی تشدد و گرفتاری کو لیکر بلوچستان میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.