90فیصد سے زائد ریونیو دینے والے شہر کو پیپلز پارٹی نے تباہ کردیا، حافظ نعیم

0 73

 کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ 90 فی صد سے زیادہ ریونیو دینے والے شہر کراچی کو پیپلز پارٹی کی حکومت نے تباہ کردیا۔

شہر کی ابتر صورت حال اور عوام کو درپیش مسائل پر ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کا اعلان تو ہوگیا، لیکن ہم الیکشن کمیشن کی جانب سے انتظامات کرنے کے منتظر ہیں۔ اگر کرپشن دیکھنا الیکشن کمیشن کا کام نہیں ہے تو کم از کم الیکشن کمیشن یہ تو دیکھ لے کہ نئی اسکیمیں کیوں آ رہی ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ جب الیکشن قریب آتے ہیں تو ہر جماعت کام کرنا شروع ہوجاتی ہے۔ پچھلے تین چار برس سے سیاسی بنیادوں پر تعیناتیاں ہورہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں حکومت اپنا اثرورسوخ استعمال کرے گی۔شہر میں مسائل بڑھتے جارہے ہیں۔ سڑکوں کی استرکاری برسات کے کئی ماہ بعد بھی جاری ہے جب کہ اس دوران جو کام کیا جارہا ہے وہ ناکافی اور غیر معیاری ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ماس ٹرانسپورٹیشن پر جو کام کراچی میں کیا جارہا ہے وہ بہت کم ہے۔ نہ جانے حکومت کے کمپنیوں کے ساتھ کیا معاہدے ہیں؟۔ اورنج لائن کے 2 اسٹاپ کے لیے عوام بھاری کرایہ کیوں دیں؟ اس حکومت نے اورنج لائن سروس کو تباہ کردیا۔ گرین لائن نہ ن لیگ نے بنائی اور نہ ہی پی ٹی آئی نے مکمل کیا۔ عمران خان نے ادھورے منصوبے کا افتتاح کیا۔

انہوں نے کہا کہ ریڈ لائن منصوبے کے تحت پورا یونیورسٹی روڈ توڑ دیا گیا ہے۔ سڑک کی جگہ کم کر کے بیچ میں ریڈ لائن بنائی جارہی ہے۔ سیکڑوں گاڑیوں کو یونیورسٹی روڈ سے روزانہ گزرنا ہوتا ہے، نہ جانے کتنے برس تک اس روڈ پر اب مسافر رُلتے رہیں گے۔ 90 فیصد سے زائد ریونیو دینے والے شہر کو اس حکومت نے تباہ کردیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے شہریوں سے گزارش ہے کہ 15جنوری کو اپنا لیڈرمنتخب کریں۔ وہ لیڈر جو اس شہر کے لیے کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ڈھائی ماہ کا وقت ہے، اختیارات منتقل کیوں نہیں کرتے۔ ایم کیو ایم سے پوچھتے ہیں کہ آپ اتحادی جماعت ہیں آپ اختیارات منتقلی کی بات کیوں نہیں کرتے؟۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے دھرنا دیا تو پوری قوم کے سامنے حکومت نے ہم سے معاہدہ کیا۔ رجیم چینج ہوا تو ایم کیو ایم بڑے مینڈیٹ کے ساتھ جاملی۔ سردیاں شروع ہوچکی ہیں لیکن پھر بھی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کے الیکٹرک کا منصوبہ جو 2019ء میں مکمل ہونا تھا وہ کہاں گیا؟ تین سال گزر گئے مگر یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوا۔

جماعت اسلامی اگر نہ ہوتی تو یہ ہم سے سردیوں میں بھی فیول ایڈجسٹمنٹ کے پیسے لیتے۔ جماعت اسلامی کا مؤقف واضح ہے کہ کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کیا جائے۔ اس کے ساتھ معاہدے میں ایم کیو ایم، پی پی، پی ٹی آئی سب جماعتیں شامل ہیں۔ اس کمپنی کو یہاں سے روانہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب سب خاموش ہوتے ہیں تو جماعت اسلامی تب بھی اپنی مہم چلاتی ہے۔ حافظ نعیم نے اعلان کیا کہ حق دو کراچی کو تحریک چل رہی ہے اور یہ چلتی رہے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.