عمران خان کو بھگائیں گے، عوامی حکومت آئےگی، بلاول بھٹو

0 306

کراچی(امروز ویب ڈیسک) کراچی میں پیپلز پارٹی کا عوامی مارچ مزار قائد سے روانہ ہو گیا، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے عوامی لانگ مارچ کے آغاز میں ہی گو سلیکٹڈ گو کا نعرہ لگا دیا۔اتوارسے شروع ہونے والے عوامی لانگ مارچ کی قیادت کرنے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کراچی میں مزارِ قائد پہنچے

، جہاں انہوں نے شرکا سے خطاب بھی کیا۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا عوامی مارچ حکومت کےخلاف اعلان جنگ ہے، ہمارا یہ سفر قائد اعظم کے شہر کراچی سے شروع ہو رہا ہے، اسلام آباد پہنچ کرحکومت پرحملہ کریں گے۔انہوں نے کہاکہ کٹھ پتلی حکومت کے 3 سال مکمل ہونے پر کراچی کے عوام احتجاج پر مجبور ہو گئے ہیں، کراچی کے عوام نالائق اور نااہل حکومت سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی منی پاکستان ہے، ہر صوبے اور ہر زبان والے یہاں بستے ہیں، کٹھ پتلی حکومت کے 3 سا ل ہونے پر کراچی کے عوام احتجاج پر مجبور ہو گئے ہیں، نااہل اور ناجائز وزیرِ اعظم نے کراچی،

سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے حق پر ڈاکہ مارا ہے، یہ ہر صوبے کے حقوق پر ڈاکہ مار رہے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہاکہ قائد عوام اور شہید بینظیر کے نامکمل مشن کو مکمل کرنے کیلئے نکلے ہیں، ہرپاکستانی کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔ عمران خان نے معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا، کرپشن ختم کرنے کا وعدہ کیا مگر ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق عمران خان حکومت کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ چکی۔ یہ پاکستان کی کرپٹ ترین حکومت ہے۔ موجودہ حکومت اٹھارویں ترمیم کوختم کررہی ہے، این ایف سی ایوارڈ نہیں دے رہی۔انہوں نے کہا کہ مراد علی شاہ اور حکومتِ سندھ کے ہاتھ پاﺅں بندھے ہیں،

لیکن سندھ حکومت کم وسائل کے باوجود کراچی کے عوام کی خدمت کر رہی ہے، ہم عمران خان کو بھگائیں گے، عوامی حکومت آئے گی، جب تک کٹھ پتلی، سلیکٹڈ ہے سندھ ترقی کر سکتا ہے نہ پاکستان۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کا وقت آ گیا ہے، ہمارا مارچ شروع ہوتے ہی بنی گالا سے چیخیں آئیں گی، ہمارا عوامی مارچ حکومت کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ نے آپ کے ووٹ پر اور جیب پر ڈاکہ مارا ہے، 3 سال ہو گئے ہیں، اب سلیکٹڈ کو جانا ہے، سلیکٹڈ حکومت کو ہم گھر بھیج رہے ہیں، جس کے لیے پیپلز پارٹی کے جیالے صفِ اول کا کردار ادا کر رہے ہیں، خان صاحب نے جمہوریت کا جنازہ نکالا ہے، معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔بلاول کا عوام سے مخاطب ہو کر کہاکہ مجھے آپ کے ساتھ کی ضرورت ہے،

ہم 1973 کے آئین اور مساوات پر مبنی معیشت کا تحفظ کریں گے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے عوامی مارچ کے 38 مطالبات کے نکات کو جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کی ہر سطح پر ایماندارانہ اور آزادانہ انتخابات کروائے جائیں، 1973 کے آئین کے مطابق حکومت کا نظم و نسق چلایا جائے، 1973 کے آئین میں دئیے گئے مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے جدا جدا اختیارات کے اصولوں کی پاسداری کی جائے۔ انہوںنے کہاکہ تمام اداروں کے اپنی اپنی آ ئینی حدود میں رہتے ہوئے کارکردگی اور اختیارات ہوں، پارلیمنٹ اور کمیٹی سسٹم کا استحکام اور پائیداری کی جائے۔ انہوںنے کہاکہ اعلیٰ عد لیہ کے ججوں کی تقرری کے سلسلے میں پارلیمانی کمیٹی کے 1973 کے آئین میں دئے گئے کردار کا ازسر نو تعین کیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ آزاد الیکشن کمیشن آف پاکستان کا قیام کیا جائے، قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے۔

انہوںنے کہاکہ ایک آزاد اور قابل احتساب عد لیہ کو ممکن بنایا جائے، ملک بھر کے تمام مزدوروں کو سندھ کی طرز پر یونین سازی کا حق دیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ طلبا کے لئے یونین سازی کا حق اور طالبعلموں کی فلاح و بہبود کےامور میں ان کا فیصلہ ساز کردار تسلیم کیا جائے، آزادی اظہار کے حق کو یقینی بنایا جائے۔ انہوںنے کہاکہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں باضابطہ اور غیر اعلانیہ دونوں قسم کی سنسر شپ کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ میڈیا کمیشن کی رپورٹ کی سفارشات کے مطابق پیمرا کی آزادی کےلئے نئی قانون سازی کی جائے۔

انہوںنے کہاکہ سائبر کرائم قانون کی تمام غیر منصفانہ اور جابرانہ دفعات کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ تمام پبلک اداروں میں ڈیٹا کے تحفظ کے لئے نئی قانون سازی کی جائے، تمام ضرورت مند مردوں اور خواتین کے لئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی توسیع اور اصلاح کی جائے۔ انہوںنے کہاکہ ایک مساوات کمیشن کا قیام کیا جائے جو صوبوں کی مشاورت سے تمام خواتین اور اقلیتوں کے لئے منصفانہ اجرت اور روزگار پالیسی مرتب کرے۔ انہوںنے کہاکہ خواتین کے خلاف تشدد، گھریلو تشدد، تیزاب کے حملوں اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے قوانین پر لازمی عملدر آمد کو یقینی بنایا جائے۔انہوںنے کہاکہ تمام پبلک مقامات

، پبلک ٹرانسپورٹ اور پبلک سہولیات میں خواتین، بچوں اور خصوصی اقلیتوں کے افراد کا باسہولت داخلہ یقینی بنایا جائے۔ انہوںنے کہاکہ 16 سال کی عمر تک بچوں کی آئین میں دی گئی شق کے مطابق لازمی تعلیم کو ایک مقررہ مدت کے اندر اندر یقینی بنایا جائے۔انہوںنے کہاکہ قابل استطاعت صحت اور علاج معالجے کے حقوق کی فراہمی کو سرکاری اور منظور شدہ نجی شعبے کے اسپتالوں کے نیٹ ورک کے ذریعے یقینی بنایا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.