ججز کے خلاف دائر ریفرنس میں قانونی تقاضے نظر انداز کردیے گئے، جسٹس افتخار محمد چوہدری

0 136

اسلام آباد (امروز نیوز) سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشکل کونسل میں دائر ریفرنس میں قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کو بھی نظر انداز کردیا گیا۔ایک انٹرویومیں سابق چیف جسٹس نے کہاکہ سپریم کورٹ کے جج کے خلاف ریفرنس وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کی ایما پر دائر کیا گیا۔انہوںنے کہاکہ ریفرنس کو وزیراعظم اور صدر کے آفس سے نہیں بلکہ اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم جوڈیشل کونسل میں جانا چاہیے تھا۔سابق چیف جسٹس نے کہا کہ ظاہری طور پر اس کیس میں جو کمی دکھائی دیتی ہے اس میں وزیراعظم کے سوا کابینہ معاملے کا حصہ نہیں ہے۔انہوں نے باور کروایا کہ پارلیمانی نظام حکومت میں وزیراعظم اکیلے حکومتی معاملات کو نہیں چلا سکتے۔سابق چیف جسٹس نے آئین کے آرٹیکل 90 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2016 میں مصطفی امپیکس کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ تھا کہ جس میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت ایک کابینہ ہے جو وزیراعظم اور وفاقی وزرا پر مشتمل ہے تاہم یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ کیا ریفرنس کابینہ کے سامنے رکھا جائے یا نہ رکھا جائے۔ایک سینئر وکیل نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ آئین کا آرٹیکل 2019 سپریم جوڈیشل کونسل کے معاملات پر ہے، وہ آرٹیکل 90 کا تابع نہیں ہے کیونکہ اعلیٰ سطح کے معاملات میں فیصلے کےلئے رازداری بہت ضروری ہے۔ادھر سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ معاملہ کس نوعیت کا تھا، سوال یہ ہے کہ کیا اس معاملے میں آرٹیکل 90 کی پیروی کی گئی تھی؟ کیونکہ وزیراعظم کابینہ کی منظوری کے بغیر صدر کو اکیلے ہی سمری بھیجنے کے مجاز نہیں ہیں

Leave A Reply

Your email address will not be published.