وزیراعظم عمران خان نے پیٹرول کے مصنوعی بحران میں ملوث کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔

0 154

وزیراعظم عمران خان نے پیٹرول کے مصنوعی بحران میں ملوث کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔

پیٹرول بحران پر وزیراعظم کو تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ 9 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے جان بوجھ کر پیٹرول بحران پیدا کیا، اسٹوریج میں پیٹرول ہونے کے باوجود یکم جون سے پیٹرول کی سپلائی محدود کی گئی۔

پیٹرول کی قلت پر معاون خصوصی پیٹرولیم کا انوکھا مؤقف کابینہ ارکان نے مسترد کردیا
قیمتوں میں کمی کے 2 ہفتے بعد بھی پیٹرول کی فراہمی مکمل بحال نہ ہوسکی
تحقیقاتی رپورٹ پر وزیراعظم عمران خان نے پیٹرول کے مصنوعی بحران میں ملوث افراد اور کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔

وزیراعظم نے بحران میں ملوث کمپنیوں کے لائسنس معطل اور منسوخ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ ذخیرہ شدہ پیٹرول مارکیٹ میں سپلائی کیا جائے۔

فیول کرائسز کمیٹی عدالت میں چیلنج
دوسری جانب پیٹرول بحران پر بنی ’فیول کرائسز کمیٹی‘ کو پیٹرولیم کمپنیوں نے چیلنج کردیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کمپنیوں کے وکیل نے کہا کہ اوگرا خود ریگولیٹر ہے، وفاقی وزیر کو فیول کرائسز کمیٹی تشکیل دینے کا اختیار نہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی میں ایف آئی اے کو شامل کرنا بھی غیرقانونی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئل کمپنیوں کی درخواست پر وزارت توانائی، اوگرا، فیول کرائسز کمیٹی اور ایف آئی اے کو 25 جون کے لیے نوٹس جاری کر دیے۔

خیال رہے کہ ملک میں پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد یکم جون سے مختلف شہروں میں پیٹرول کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی،
پیٹرول کی سپلائی نہ ہونے کے باعث متعدد پیٹرول پمپس بند جب کہ جو کھلے ہوئے تھے وہاں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی تھیں.

Leave A Reply

Your email address will not be published.