منور حسن انتقال کرگئے

0 303

جماعت اسلامی میں ان کے پیش رو قاضی حسین احمد زیادہ مقبول تھے اور فکری منطقے سے باہر اثر و رسوخ کے حامل بھی

سید منور حسن چند بیانات کی وجہ سے متنازع بھی بنے۔ دہشت گردوں سے مقابلے میں مرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت کے حوالے سے ان کی رائے بالخصوص شدید تنقید کی زد میں آئی

چند بار سننے اور ایک دو بار ملنے کا موقع ملا۔ دل میں محبت کی کوئی خاص لہر نہیں اٹھی۔ ضروری نہیں کہ ایسا فکری حوالے سے ہی ہوتا ہو۔ ہر شعبے کے بڑے لوگوں میں کچھ ایسا ہوتا ہے جو دل کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ ایک بار پھر قاضی صاحب کا خیال آیا ہے، ان میں اس نوع کی جاذبیت پائی جاتی تھی

کسی منہ زور پہاڑی چشمے کی طرح بے تکان اور مسلسل خطابت کی غیر معمولی صلاحیت کے علاوہ سید منور حسن کی ذات کے تین پہلو درجہ کمال کو پہنچے ہوئے تھے

اول کہ وہ حد درجہ صاف گو تھے۔ انہیں کوئی خوف یا لالچ اپنی رائے کے اظہار سے نہیں روک پاتا تھا

دوسرا کمال یہ تھا کہ وہ کمٹڈ، بے لوث اور نظریاتی کارکنوں کی اس نسل کے آخری آخری لوگوں میں سے ایک تھے جو تیزی سے نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اور بعد ازاں شاید لیبر پالیٹکس میں بائیں بازو کی سیاست ہو یا جماعت اسلامی کے جھنڈے تلے دائیں بازو کی سیاسی جدوجہد، سید منور حسن دونوں کیمپوں میں نظریاتی وابستگی، وفا شعاری، بے لوث محنت اور نڈر جدوجہد کا استعارہ رہے

تیسرا کمال شک و شبہے سے بالاتر دیانت داری اور خود داری تھی۔ یہ وہ جنس ہے جو آج دیانت و شفافیت کے آسمان کو چھوتے دعووں کے باوجود ایوان ہائے سیاست سے لے کر اداروں تک ملنا ناممکن نہیں تو بہت مشکل ہو چکی

اللہ کریم غریق رحمت کرے، اجلے کردار کا ایک اور پاکستانی چلا گیا

Leave A Reply

Your email address will not be published.