بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو سب سے پہلی کال کس دوست ملک سے آئی ؟وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا پریس کانفرنس میں اہم انکشاف
اسلام آباد نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ 6مئی کو پاکستان کا آپریشن روم 24گھنٹوں کیلئے چل رہا تھا، جب مجھےکال آئی کی بھارت نے حملہ کیا ہے تو میں دفتر ا ٓ گیا،مجھے پہلی کال ترکیے کے وزیر خارجہ کی آئی ،ترک قیادت نےمقبوضہ کشمیر کے معاملے پر بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کااعادہ کیا۔
نجی ٹی وی چینل’’ جیو نیوز‘‘ کے مطابق اسلام آباد میں ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحا ق ڈار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ 19مئی کا دورۂ چین دوطرفہ تھا، چین سے دوطرفہ اور سہ فریقی ملاقاتیں غیررسمی تھیں،جب آپ جاتے ہیں تو تمام چیزوں پر تبادلۂ خیال ہوتا ہے، جانے سے پہلے چین نے کہا کہ اگرآپ چاہیں تو سہ فریقی کر لیتے ہیں ،چین نے کہا کہ سہ فریقی کیلئے امیر متقی کو بھی دعوت دے لیں،میرے دورۂ چین کے دوران دوطرفہ ملاقاتیں بھی ہوئیں،25مئی اور پھر 30مئی تک 4 ملکوں کا دورہ تھا۔
نائب وزیراعظم نے کہاکہ بلاول بھٹو کی سربراہی میں وفد امریکا، برطانیہ اور یواین کیلئے بھیجا،بھارت کی جانب سے بھی چار پانچ درجن لوگ باہر جارہے ہیں،وفد نے بتایا ہے کہ پاکستان کی بات کو مانا گیا،طارق فاطمی نے اپنے کیریئر میں روس میں بہت کام کیا. ان کاکہناتھا کہ وزیراعظم کے ساتھ مختلف ملکوں کادورہ کیا، پاکستان کی فتح پر ویسے تو پوری مسلم امہ میں خوشیاں منائی گئی ہیں،ترکیے اور آذربائیجان میں تو لوگ خوشی سے سڑکوں پر آ گئے،ہمارے ساتھ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی تھے،6مئی کو پاکستان کا آپریشن روم 24گھنٹوں کیلئے چل رہا تھا، جب مجھےکال آئی کی بھارت نے حملہ کیا ہے تو میں دفتر گیا،مجھے پہلی کال ترکیے کے وزیر خارجہ کی آئی ،ترک قیادت نےمقبوضہ کشمیر کے معاملے پر بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کااعادہ کیا،حکومت کوئی بھی ہو ہم ترکیے کے ساتھ ہوتے ہیں،اس کے بعد ہم ایران کے دورہ پر گئے،ہم نے ترکیے اور ایران کو اہم چیزوں کے بارے میں بریف کیا، 2فورمز ہیں ، ایک سارک اور دوسرا ای سی او ہے،ای سی او کا اگلا سربراہی اجلاس آذربائیجان میں ہورہا ہے،ای سی او سربراہی اجلاس میں ہم شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہاکہ سب کو پتہ ہے پاکستان اور بھارت جوہری طاقتیں ہیں،ایران کے وزیر خارجہ اس بحران کے دوران پاکستان آئے، ایرانی وزیر خارجہ واپس ایران گئے اور پھر بھارت گئے،ایرانی وزیر خارجہ نے بھارت سے مجھے فون کرکے کچھ باتیں کیں،بھارت میں ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ بھارتی میڈیا نے نامناسب رویہ اختیار کیا تو وہ واپس چلے گئے،آذربائیجان نے 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہواہے، ہمارے ہمسائے نے ترکیے اوراس کی اشیاء کے خلاف کال دی، ہمارے پاکستانی اس کو میک اپ کردیں گے۔