بانی پی ٹی آئی کیخلاف 8کیسز میں مدعی پولیس ،تمام میں سازش کی نوعیت اور تفصیل کا ذکر نہیں،وکیل سلمان صفدر کے ضمانت کی درخواستوں پر دلائل
لاہور( لاہور ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی 9مئی کے 8مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کیخلاف تمام 8کیسز میں مدعی پولیس ہے،تمام ایف آئی آرز میں سازش کی نوعیت اور تفصیل کا ذکر نہیں۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی 9مئی کے 8مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی،بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کسی بھی مقام پر موجود نہیں تھے،بانی پی ٹی آئی دو سال سے زائد عرصے سے جیل میں ہیں،اصول طے ہو چکا کہ ایک کیس میں گرفتار ملزم تمام کیسز میں گرفتار تصور ہوگا، اسی نوعیت کے 21مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانتیں ہو چکی ہیں،تمام عدالتی فیصلے درخواست کے ساتھ لگے ہیں۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ ان تمام 8کیسز میں مدعی پولیس ہے،تمام ایف آئی آرز میں سازش کی نوعیت اور تفصیل کا ذکر نہیں،نیب نے 9مئی کو گرفتار کیا، سپریم کورٹ نے 11مئی کو رہا کرنے کا حکم دیا، سپریم کورٹ نے گرفتاری کو غیرقانونی قراردیا۔
وکیل درخواستگزار نے کہاکہ ان دنوں کے دوران بانی پی ٹی آئی کا سازش کرنا ثابت نہیں،پراسیکیوشن 9مئی سے پہلے کے بیانات کو بنیاد بناتی ہے،ان کیسز میں چودہ ماہ بعد گرفتاری ڈالی گئی،دو سال میں تفتیش اور ٹیسٹ کیوں نہیں کرائے گئے؟عدت کیس میں بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ کی رہائی کے فیصلے کے بعد گرفتار کرنے کا فیصلہ ہوا، آئی جی پنجاب کا ہر کیس میں گرفتار کرنے کا بیان موجود ہے،پراسیکیوشن کیس میں بار بار اپنا بیان بدل رہی ہے۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ ان کے پاس کیا شہادت ہے جس کیلئے ٹیسٹ کرانے ہیں؟عدالت نے پراسیکیوشن سے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس ایسا کوئی میٹریل ہے؟پراسیکیوٹر نے کہاکہ جی ہمارے پاس ٹرانسکرپٹ موجود ہے، بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ اس کیس میں اعجاز چودھری موقع پر موجود تھے،سب کچھ صرف سیاسی مقاصد کیلئے کیا جارہا ہے،عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔