پاکستان محفوظ ملک ہے ،احسان مانی

0 112

راولپنڈی (امروز نیوز)چیئر مین پاکستان کرکٹ بورڈ احسان مانی نے کہاہے کہ پاکستان محفوظ ملک ہے ، اگر کسی کو ا عتراض ہے تو آگاہ کریں ،بنگلہ دیش کے ساتھ ٹیسٹ میچ راولپنڈی میں ہی ہونگے،انگلینڈ 2021 اور آسٹریلیا 2022 میں آئیگا،بی سی سی آئی کے سیکرٹری پاکستان کے ساتھ کرکٹ کے فروغ کےلئے کام کریں ،ہمیں کرکٹ کو بین الاقوامی معیار پر لانا ہوگا۔ جمعرات کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین احسان مانی نے کرکٹ اسٹیڈیم کا دورہ کر کے انتظامات کا جائزہ لیا ۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بنگلہ دیش سے بات چل رہی ہے اگلے ماہ ایم سی سی آرہی ہے،انگلینڈ اور آسٹریلیا کے حکام اگلے ماہ پاکستان آئینگے۔ انہوکںنے کہاکہ ہم کہتے ہیں پاکستان محفوظ ہے اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ آگاہ کریں،ہم کیوں کسی کے پاس جائیں کہنے کےلئے؟۔ انہوکںنے کہاکہ بنگلہ دیش کے ساتھ ٹیسٹ میچ راولپنڈی میں ہی ہونگے۔ انہوںنے کہا کہ کوئٹہ میں فرسٹ کلاس کرکٹ ہو رہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ انگلینڈ 2021 اور آسٹریلیا 2022 میں آئیگا۔ انہوکںنے کہاکہ بی سی سی آئی کے سیکریٹری جے شاہ کو چاہیے کہ پاکستان کے ساتھ کرکٹ کے فروغ کے لیے کام کرے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کا کام ملک کو چلانا ہے وہ کسی ٹیم کو کیوں دعوت دےں۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے پاس سات سلیکٹرز ہیں اور سب کے سب کرکٹرز رہ چکے ہیں۔انہوںنے کہاکہ پاکستان 8 سٹیڈیمز کو چلا رہا ہے،برٹش ہائی کمشنر نے کہا کہ آسٹریلیا ملیشیاءمیں کیوں کھیل رہا ہے؟۔ انہوںنے کہاکہ جو ٹاسک فورس بنائی تھی اس کی تجاویز میں نے حکومت کو دے دی تھی۔انہوںنے کہاکہ آئی سی سی کے جنوری میں اجلاس میں شرکت کرونگا۔ انہوںنے کہاکہ ہم آئی سی سی کی 5 کمیٹیوں میں ہیں،کبھی آئی سی سی میں اتنے لوگ شامل نہیں ہوئے جتنے ابھی ہیں،ہماری کمیٹیاں آسٹریلیا میں سامنے آ گئی تھیں،جب تک اس ملک میں فرسٹ کلاس کرکٹ نہیں ہوگا دنیا میں اچھا کھیل نہیں پیش ہو سکتا۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں کرکٹ کو بین الاقوامی معیار پر لانا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ بنگلہ دیش کی سیکیورٹی ٹیم یہاں آئی تھی،اس دورے کے بعد سے اب تک بنگلہ دیش خاموش ہے۔ انہوںنے کہاکہ آئی آئی سی میں آنے والے بھارتیوں میں سے متعدد میرے جاننے والے ہیں ،جب کوئی بالر آتا ہے تو اسے مانیٹر کیا جاتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے باو¿لنگ لیب میں ہمارے بالرز کی تربیت ہوتی ہے،چھ فرسٹ کلاس ٹیمز ہیں اور بھی ٹیمز ب آئی ہیں،راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں چھ مہینے میں 6 سو سے 7 سو ملین روپے خرچ ہوئے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.