مقدمات میں خواتین کی ضمانت میں نرمی کی ضرورت ہے ، آصف سید کھوسہ
لاہور(امروز نیوز )چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ مقدمات میں خواتین کی ضمانت میں نرمی کی ضرورت ہے، ضلعی عدلیہ میں300خواتین ججز فرائض سر انجام دے رہی ہیں، سپریم کورٹ میں بھی خواتین ججز کی جلد تعیناتی ہوگی، خواتین ججز مردوں کے غالب معاشرے میں کام کررہی ہیں، زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کو بااختیار بنانا ہوگا کیونکہ معاشرے میں خواتین کاکرداربڑھتا جا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے تیسری ویمن ججز کانفرنس کے آخری روز خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سردار شمیم احمد خان، جسٹس عائشہ اے ملک سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ مذکورہ کانفرنس کے انعقاد سے خواتین ججز کی حوصلہ افزائی اورخواتےن کی قانون کے شعبے مےںحوصلہ افزائی ہوگی ۔خواتین ججزکانفرنس کا انعقاد ہم سب کیلئے باعث فخرہے،خواتین کے لئے ہر سال ہونے والی یہ کانفرنس لاہور ہائی کورٹ اور جوڈیشل اکیڈمی کا اہم اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن پاک میں بار بار انصاف کی فراہمی کی تلقین کی گئی،اللہ تبارک و تعالی ہمیں انصاف کرنے اور امانتوں کو خیانت کے بغیر لوٹانے کا حکم دیتا ہے،اللہ تعالی فرماتے ہیں میں انصاف کرنے والوں کے ساتھ محبت کرتا ہوں،یہ اللہ تعالی ہم سے کہہ رہا ہے کیونکہ ہم اللہ کی صفت کے امین ہیں،دنیا میں انصاف کرنا، جنت حاصل کرنے کا بہت ہی سستا سودا ہے،انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے والے افراد اللہ کے برگزیدہ بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔معاشرے کے مظلوم افراد کو بہترین انصاف کی فراہمی بہت بڑی عبادت ہے،ہم عدالتوں میں انصاف کرنے کےلئے بیٹھتے ہیں،ہمیں مقدمات کی ایک کاز لسٹ دی جاتی ہے جو ہمارے پاس امانت ہوتی ہے،اگر ہم پوری کاز لسٹ میں موجود مقدمات نہیں سن لیتے تو لوگوں کی امانتوں میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ جینڈر بیسڈ کورٹس بڑا اقدام ہے ،پاکستان میں صنفی امتیاز شروع سے ہی چلتا آرہا ہے،ملازمتوں سے لے کر تعلیمی اداروں میں کوٹہ تک ہر جگہ صنفی امتیاز موجود ہوتا ہے،خواتین کو معاشرے میں مختلف قسم کے مسائل کا سامنا ہے،وراثت میں حق کا معاملہ ہو یا روزمرہ گھریلو تشدد کا سلسلہ خواتین کی اکثریت ایسے مظالم کا شکار ہے،ہمارا آئین اور مختلف قوانین خواتین کو خاص حقوق دیتے ہیں،ضابطہ فوجداری کے تحت خاتون ملزم کو ضمانت ملنے آسانی موجود ہے،ہمیں خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین میں اقلیتوں سمیت ہر شہری کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔خواتین اور مرد ججز میں فرق ختم کرنا ہو گا، کمرہ عدالت میں ججز کے رویے سے لوگ عزت کرتے ہیں، خواتین ججز ذہنی دبا ﺅسے آزاد ہوکر اپنا کام کریں۔کمرہ عدالت کے ماحول کا دارومدار ججز کے رویے پر ہے،جج بننے کے بعد خواتین ججزکا رویہ بھی مرد جج کی طرح ہوجاتا ہے،جرائم کے مقدمات مےں خواتےن ججز سخت الفاظ سے گرےز کرےں ،خواتین ججزنے پیچیدہ مقدمات میں قانون کے مطابق فیصلے دے کر صلاحیتوں کو منوا یا ہے۔خواتین ججز بہت سارے مقدمات میں بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں،عدالتوں میں مردوں کی مانند سخت بننے کی کوشش نہ کریں، بطور خواتین ججز فریقین آپ کے رویے سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں،ہمارے معاشرے میں ابھی بھی منفی سوچ موجود ہے،خواتین ججز کی عدالتوں سے مقدمات ٹرانسفر کرنے کی درخواستیں دی جاتی ہیں،خواتین ججز اپنے رویے، کوڈ آف کنڈکٹ اور فیصلوں سے منفی لوگوں کی سوچ کو بدلیں،عدالتوں میں ججز کا سخت رویہ وکلا ءاور فریقین پر برا اثر ڈالتا ہے،عدالتوں کو شائستہ انداز میں میرٹ اور قانون کے مطابق چلائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مےں ضلعی عدالتوں مےں300سے زائد خواتےن ججز خدمات انجام دے رہی ہےں ،سپرےم کور ٹ مےں بھی خواتےن ججز کی تعےناتی جلد ہوگی ،خواتےن ججز مردوں کے غالب معاشرے مےں کام کررہی ہےں ،خواتےن ججز ذہنی تناﺅ سے آزاد ہو کراپنا کام کرےں ۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سردار محمد شمیم خان نے کہا کہ تین روزہ ویمن ججز کانفرنس بہت کامیاب رہی ۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی ہمیں حکم دیتا ہے کہ مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے محافظ ہیں،قانون کی نظر میں کوئی بھی حقیر یا بالاتر نہیں ہے،صرف صنف کی بنیاد پر کسی کو بھی اس کے حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ آج خواتین ہر میدان میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں،ہماری عدلیہ میں خواتین کا بہت بڑا حصہ ہے،پنجاب کی خواتین ججز بہترین فیصلے کررہی ہیں،خواتین ججز کو ہر ممکن سہولیات فراہم کررہے ہیں۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ ججز آئین اور قوانین کے محافظ ہوتے ہیں،ہمیں معاشرے کے مظلوم طبقے کو حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے،ہماری جینڈر بیسڈ اور جووینائل کورٹس بہترین کام کررہی ہیں۔جسٹس عائشہ اے ملک نے کہا کہ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد خواتین ججز کی عدالتوں میں نظر آئے گا۔ایک جج کو مکمل طور پر عمر، رنگ، نسل اور صنف سے بالاتر ہوکر انصاف کرنا ہوتا ہے،ہماری عدالتوں میں آنے والا ہر شخص فیئر ٹرائل کا طلبگار ہوتا ہے۔جج کی نظر میں کوئی بچہ، بوڑھا، مرد، عورت یا ٹرانس جینڈر نہیں ہوتا وہ صرف انصاف کا طلبگار ہوتا ہے،بچے چاہے کسی ظلم کا شکار ہوں یا کسی مقدمے میں ملزم ہوں، انہیں عدالتوں میں بہترین ماحول مہیا کیا جانا ضروری ہے،ہمارے معاشرے میں خواتین کی اکثریت عدالتوں میں آنے سے گھبراتی ہے،وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو بدلیں،عدالتوں میں عورتوں اور بچوں سے جراح کا ایک معیار طے ہونا ضروری ہے،ہمیں عدالتوں تک آسان رسائی ممکن بنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کوئی ایک فرد بھی انصاف تک رسائی سے محروم ہے، فراہمی انصاف کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔