امان اللہ کنرانی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے پر احتجاج کی کال دیدی

0 124

اسلام آباد (امروز نیوز) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے پر احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہاہے کہ 14جون کو عدالتوں کو تالے لگائیں گے،سڑکوں پر نہیں جائینگے ،آپ بتائیں قاضی فائز عیسیٰ کون سی شق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں؟اگر کورڈ آف کنڈیکٹ کی بات کریں تو ایک بھی جج یہاں نہیں رہے گا، ججز کے بارے میں فیصلوں کا اختیار پارلیمنٹ کو ہونا چاہیے ۔صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن امان اللہ کنرانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے خواہش ہے کہ ہم لمحہ با لمحہ قوم کو آگاہ کریں،کوئی یہ نہ کہے کہ اعلان کر کے چھپ گئے۔ انہوںنے کہاکہ میں پیمراہ کی پابندیوں کی مذمت کرتا ہوں۔انہوںنے کہاکہ عدلیہ کو انسانی حقوق پر نوٹس لینا چاہیے کہ پیمراہ نے پابندیاں کیوں لگائی؟۔ انہوںنے کہاکہ ریاست اکبر بگٹی کے زخم کو ابھی تک چاٹ رہی ہے،اب ایک بار پھر بلوچستان کے جج کے ساتھ ناروا سلوک ہو رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نا کردہ گناہوں کی سزا نہ دی جائے۔ انہوںنے کہاکہ ان شقوں کے مجرم اعلی عدلیہ میں دندناتے پھر رہے ہیں،آپ بتائیں قاضی فائز عیسیٰ کون سی شق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں؟اگر کورڈ آف کنڈیکٹ کی بات کریں تو ایک بھی جج یہاں نہیں رہے گا۔ انہوںنے کہاکہ جب آپ سیاست دانوں کو آرٹیکل 62 اور 63 پر نا اہل کر دیتے ہیں،اسی طرح ججوں کو اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ ججوں کے خلاف بھی فیصلہ کرنے کےلئے کوئی تیسرا ہونا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ پالیمنٹ کے پاس اختیار ہونا چاہیے کہ وہ ججز کے بارے میں فیصلہ کریں۔ انہوںنے کہاکہ ہم قاضی فائز عیسیٰ کو آپ کے سامنے شکار ہونے کےلئے نہیں چھوڑیں گے۔انہوںنے کہاکہ ہم اکاﺅنٹیبلٹی کے خلاف نہیں ہیں امتیازی سلوک کے خلاف ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم چیف جسٹس سمیت تمام ججز کا احترام کرتے ہیں،اب روایتی احتجاج نہیں ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ اب احتجاج عدالتوں کے اندر ہو گا،ہم عدالتوں کو تالے لگائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ اب مجرم سڑکوں پر گسیٹے جائیں گے،ہم عدالت کے اندر آگ لگائیں گے سڑکوں پر نہیں جائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ ہم کوئی معافی نہیں مانگیں گے، ہم توہیں عدالت کریں گے ،جس نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر سیاست کی وہ ہماری لاشوں پر سیاست کرے،ہم اسلام کے کمزور پیمانے پر نہیں اعلی پیمانے پر جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ جسٹس کھوسہ صاحب میں عدالت کے اندر اس ریفرنس کو آگ لگا دوں گا۔کھوسہ صاحب آپ کی سرزمین بھی کوئی اچھی تاریخ نہیں رکھتی،کھوسہ صاحب ہم آپ کی عزت کرتے ہیں لیکن آپ کے سسر عدالتی قتل کا اعتراف کر چکے ہیں،ہم جس آصف کھوسہ کو جانتے ہیں اس نے عدلیہ کے لیے قربانی دی ہیں،امید کرتا ہوں کہ چیف جسٹس اس ریفرنس کو پھاڑ کر پھینک دیں گے۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں عدالت میں خون دینے والے مجنوں وکلاءکی ضرورت ہے،ہم بڑی بڑی فیسیں نہیں لیں گے۔ انہوںنے کہاکہ ہم کسی کی فون کال کا انتظار نہیں کریں گے،جنہوں نے فون کال سنیں وہ قوم کے مجرم ہیں۔انہوںنے کہاکہ جو سٹیج پر بیٹھ کر باتیں کرتے تھے وہ آج شرمندہ ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.