پائلٹس کی تنخواہ میں کٹوتی کیوں کی ؟ پی آئی اے سے 2 ہفتوں میں جواب طلب

0 129

(امروز نیوز)

ادارے کے پاس پیسے نہیں تو ہمیں نوکری سے نکال دے ، پائلٹس کا موقف ۔۔ کسی ادارے کے مالی معاملات میں نہیں جا سکتے ، عدلیہ کے ریمارکس

پائلٹس کی تنخواہ میں کٹوتی کیوں کی ؟ پی آئی اے سے 2 ہفتوں میں جواب طلب

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے 21 پائلٹس کی تنخواہ میں کٹوتی کے خلاف کیس میں پی آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سول ایوی ایشن اتھارٹی اور قومی ایئرلائن سے 2 ہفتوں میں جواب طلب کرلیا ۔ اس حوالے سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ پائلٹس کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے کی جہاں پائلٹس کے وکیل سید احمد حسن شاہ پیش ہوئے ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے پائلٹس کی جانب سے کی گئی فوری حکم امتناع کی استدعا کو مسترد کردیا اور اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ عدالت کیسے دیکھ سکتی ہے کہ پی پی آئی اے چلے گئی یا نہیں صرف پائلٹس اسٹیک ہولڈرز نہیں ہیں بلکہ پاکستانی عوام بھی اس ادارے میں اسٹیک ہولڈرز ہیں ، ادارے کے پاس شاید پیسے نہ ہوں جس وجہ سے تنخواہ میں کٹوتی کی گئی ہے جس پر وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ اگر ادارے کے پاس پیسے نہیں ہیں تو ہمیں نوکری سے نکال دے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم کسی ادارے کے مالی معاملات میں نہیں جا سکتے آپ کہہ رہے ہیں کہ ہم کمرشل ادارے کے مالی معاملات میں مداخلت کریں؟جبکہ عدالت یہ سمجھتی ہے کہ ہم کسی ادارے کے مالی معاملات میں مداخلت نہ کریں جس پر وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ تنخواہ میں کٹوتی کی جارہی ہے اس کا حل بھی تو ضروری ہے ، پی آئی اے کی جانب سے پائلٹس کی 25 فیصد تنخواہ کی کٹوتی کی جارہی ہے ، پی آئی اے قانونی طور پر اس طرح پائلٹس کی تنخواہ نہیں کاٹ سکتی ، عدالت نے نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کردی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.