پورے ملک سے انسانوں کا سیلاب آرہا ہے، مولانا فضل الرحمن

0 161

پشاور(امروز نیوز)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نا اہل اور ناجائز حکومت کا جانا ٹھہر گیاہے اور اب یہ جنگ حکومت کے خاتمے پر ہی ختم ہوگی، پورے ملک سے انسانوں کا سیلاب آرہا ہے، حکومت تنکوں کی طرح بہہ جائے گی، ہماری جنگ کا میدان پورا ملک ہوگا ،اسلام آباد پہلا پڑاﺅ ہوگا ،ملک اس وقت معاشی بحران کا شکار ہے ، ہوسکتا ہے 27 اکتوبر سے پہلے تبدیلی آجائے اور وہ تبدیلی حکومت کے استعفے کی صورت میں ہوسکتی ہے،اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام ادارے حکومت کی پشت پناہی بند کریں ۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دھرنے کا لفظ چھوڑ دیں یہ آزادی مارچ ہے، پورے ملک سے انسانوں کا سیلاب آرہا ہے، حکومت تنکوں کی طرح بہہ جائے گی، نا اہل اور ناجائز حکومت کا جانا ٹھہر گیاہے۔مولانا فضل الرحمان نے ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جائز حکومت تشکیل دی جائے، اب یہ جنگ حکومت کے خاتمے پر ہی ختم ہوگی، ہماری جنگ کا میدان پورا ملک ہوگا، گرفتاریوں سے اشتعال بڑھے گا۔انہوںنے کہاکہ اسلام آباد ہمارا پہلا پڑاو¿ ہوگا، بی اور سی پلان کی طرف بھی جائیں گے ، صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تبدیل کرتے رہیں گے۔ جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ آصف زرداری ہمارے ساتھ ہیں ،کہیں سے مایوسی نہیں، ہر پارٹی کی اپنی حکمت عملی اور ترجیحات ہوتی ہیں، حتمی طور پر سب پارٹیوں نے ساتھ دینے کا کہا ہے، اسلام آباد جانا براہے تو اس کا نام ہی کیوں ایسا رکھا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کا مدارس والا کارڈ فیل ہوچکا، ہمارے مدارس اس کا اثر نہیں لے رہے، مدرسوں کا ایشو بڑھا کر حکومت بین الاقوامی سپورٹ لینا چاہتی ہے، مدارس کے طلبہ میں انعامات تقسیم کرکے ہمیں کاو¿نٹر کرنےکی کوشش کی گئی۔جے یو آئی کے سربراہ نے پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت معاشی بحران کا شکار ہے اور ہوسکتا ہے کہ 27 اکتوبر سے پہلے تبدیلی آجائے اور وہ تبدیلی حکومت کے استعفے کی صورت میں ہوسکتی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام اداروں سے کہنا چاہتا ہوں ناجائز حکومت کی پشت پناہی کرنا بند کریں، ہم پالیسی بیان دے چکے ہیں اداروں سے ہمارا کوئی تصادم نہیں ہے، حکومت اقتدار چھوڑ دے اور فوری طور پر نئے انتخابات کرائے جائیں۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ جن کے دھرنوں میں شیر خوار بچوں کو لایا گیا وہ مدارس کے بچوں کی بات کرتے ہیں، حکومت کا مدارس والا کارڈ فیل ہوچکا اور ہمارے مدارس حکومت کا اثر نہیں لے رہے۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ جب میدان میں اتریں گے توگرفتاریوں کی پرواہ نہیں ہوگی، لیکن گرفتاریوں سے مزید اشتعال پیداہوگا، کیونکہ قیادت جیل میں ہوگی تو کارکن کو کون کنٹرول کریگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.