گڈزٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے آٹھ دن میں 15 لاکھ ڈالر کا نقصان

0 160

اسلام آباد (امروز نیوز) پاکستان میں گڈزٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے ایک ہفتے میں سبزی اور پھل فروشوں کو 15 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے،حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے سبب کنٹینرز ملک کے مختلف حصوں میں رکے ہوئے ہیں اور بیرون ملک ترسیل تعطل کا شکار ہے۔ٹرانسپورٹرز اتحاد کے ترجمان امداد حسین نقوی نے بتایاکہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے رابطے میں ہیں اور جلد کوئی حل تلاش کر لیا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ ہمیں امید ہے رزاق داود اور گورنر عمران اسماعیل اوور لوڈنگ کے خاتمے میں مثبت کردار ادا کریں گے، مقامی اور ملکی صنعتوں کی تیار کردہ برآمدی مصنوعات کی بندرگاہوں تک ترسیلات مطالبات کی منظوری کے بعد ہی بحال ہوں گی۔انہوں نے بتایا کہ کراچی میں دو بین الاقوامی بندر گاہیں ہیں مگر ٹرانسپورٹرز کو اپنے ٹرک، ٹرالرز اور کار کیرئرز پارک کرنے کےلئے پارکنگ یارڈ تک دستیاب نہیں۔گڈز ٹرانسپورٹرز نے مطالبہ کیا کہ وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید فوری طور پر مستعفی ہوں، ایکسل لوڈ ایس آر او 2000 پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جائے، ڈرائیونگ لائسنس فیس کی تجدید میں ایک ہزار گنا اضافہ واپس لیا جائے، ٹوکن فیس میں اضافہ واپس لیا جائے اور سندھ حکومت کی طرف سے روٹ پرمٹ کی فیس جو دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ وصول کی جارہی ہے وہ ختم کی جائے۔کراچی پورٹ اور قاسم پورٹ کے مابین رابطے کی واحد شاہراہ مائی کلاچی لوکل گڈز ٹرانسپورٹرز کے لئے کھولی جائے۔گڈز ٹرانسپورٹرز کے مطالبات میں ایکسل لوڈ کے قانون کا نفاذ، مائی کولاچی کی شاہراہ دن کے اوقات میں لوکل گڈز ٹرانسپورٹرز کے لئے کھولنے اور ڈرائیونگ لائسنس کے مسائل سرفہرست ہیں۔پھل اور سبزیاں بیرون ملک ترسیل کرنے والے تاجروں کی ایسوسی ایشن کے مطابق ہڑتال کے سبب بیرون ملک ترسیل کیلئے کینو، ٹماٹر اور پیاز کے 14 سو کنٹینر بندرگاہوں تک نہیں پہنچ سکے۔ تاجروں کی جانب سے ہڑتال کے سبب بیرون ملک سے نئے آرڈر اور درآمدات میں کمی کا خدشہ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.