جدید سائنسی ایجادات کے استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ، عارف علوی

0 208

اسلام آباد (امروز نیوز)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جدید سائنسی ایجادات کے تعمیری اور ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے امکانات اور مواقع میں وسعتیں پیدا ہوئی ہیں، آج دنیا میں سرمائے کی طاقت نے جمہوریتوں کو یرغمال بنا رکھا ہے، عالمی برادری کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر اصولی فیصلہ نہ کرنے سے پاکستان کے عوام مایوس ہیں، پاکستان جنگ پر یقین نہیں رکھتا لیکن ہماری جوہری صلاحیت امن اور اپنے دفاع کے لئے ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں قائداعظم یونیورسٹی میں بین الاقوامی اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت نے کانفرنس کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج دنیا کو علم کے وسیع تر تبادلہ کی ضرورت ہے، اس حوالے سے اس کانفرنس کا انعقاد کو خوش آئند ہے۔ صدر مملکت نے کانفرنس کے لئے سائنسی موضوعات کے انتخاب کو سراہا اور سائنس کے شعبہ میں اپنی گہری دلچسپی کے بارے میں شرکائ کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سائنس کے شعبہ میں ہر نئی ترقی اور ایجادات متنوع استعمال کی حاملہوتی ہیں، یہ متعلقہ شعبہ کے پالیسی سازوں کی ذمہ دارری ہے کہ وہ ان نئی ایجادات کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ اگر انسانی تاریخ کا مشاہدہ کریں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر انسانی فیصلے جذبات پر مبنی ہوتے ہیں، انسانی دماغ زبردست صلاحیتوںکا حامل ہے لیکن ہم اس کے باوجود اپنے تصورات کو اپنے تجربات کی روشنی میں بناتے ہیں جس میںجانبداری کا عنصر نمایاں ہوتا ہے، سائنسی ایجادات کے استمعال کے حوالے سے اس پہلو کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے، لوگ جدیدسائنسی ایجادات کے استعمال کے حوالے سے انسانی معاشرے کے بارے میں فکر مند ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ساتھ سائنس کے جدید استعمال سے امکانات میں وسعت پیدا ہوئی ہے جیسا کہ کمپیوٹر ڈیٹا کی بدولت تیز تر ریسرچ کی راہ ہموار ہوئی ہے، یہ پیشرفت انسانیت کی خدمت کے لئے صرف ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی ایجادات سے روز مرہ کے معمولات میںسہولیات پیدا ہوئی ہیں،اسی طرح جدید ٹیکنالوی کے غلط استعمال یا استعمال میں غلطی کے سنگین نقاصانات ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تشویش یہ کہ ہیکنگ یا غلطی سے بڑی تباہی ہوسکتی ہے، سائبر سیکورٹی کے بارے میں بات کی جائے تو غلط رائے عامہ یا جعلی خبریں لوگوں کے لئے باعث تشویش ہوسکتی ہیں جیسا کہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں جعلی خبروں نے پالیسی سازوں کے لئے غلط رائے عامہ قائم کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ رائے کو متائر کرنے کی صلاحیت بڑھتی جا رہی ہے اور غلط خبروں کے ذریعے فیصلہ سازی کی سمت تبدیل کرنے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنسدانوں کی نت نئی ایجادات کی اہمیت پر زور دینے کے ساتھ ساتھ دنیا کے سیاستدانوں کو بھی کہتا ہوں کہ ان سائنسی ایجادات کے استعمال کے حوالے سے ذمہ دارنہ کردار ادا کریں۔ صدر مملکت نے کہا کہ اقوام متحدہ طاقت کو کنٹرول کرنے، امن کے فروغ اور تنازعات کو ختم کرنے کے لئے قائم کی گئی تھی۔ آج دنیا میں سرمائے کی طاقت نے جمہوریتوں کو یرغمال بنا رکھا ہے، آمریتیں بری چیز ہیں لیکن جمہوریتیں بھی اپنی اہمیت کھو ررہی ہیں کیوں کہ دنیا میں جمہوری ادارے ون مین ون ووٹکی بجائے بڑی بڑی لابیز کی نمائندگی کرنے لگی ہیں،جیسا کہ آج کشمیر کے مسئلہ پر ہو رہا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کے عوام کشمیر کے مسئلہ کو اصول پر مبنی سمجھتے ہیںلیکن مایوس ہیں کہ دنیا اصولوں کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کر پا رہی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اپنی رائے سرمائے اور کاروبار کی بنیاد پر بناتی ہے اور آپ سائنسدان جو کچھ بھی بناتے وہ ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے جو اصولوں پر فیصلے نہیں کرتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ اس کے باوجود ہم پرامید ہیں کہ سائنسی ایجادات ایسے ہاتھوں میں جائیں جو امن اور انسانیت کی فلاح کو اہمیت دیں، یہی امید ہے کہ جس کی بنیاد پر ہم کہتے ہیں کہ انسان کو سائنس کے شعبہ میں آگے بڑھتے جانا چاہیے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان جنگ پر یقین نہیں رکھتا لیکن اس کے ساتھ پاکستان جوہری دفاعی صلاحیت کی بدوت آج محفوظ ہے، پاکستان نے جوہر ی صلاحیت حاصل کی ہے جو امن اور اپنے دفاع کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے حالات دفاعی ٹیکنالوجی پر اخراجات بڑھانے پر مجبور کرتے ہیں ورنہ غربت کے خاتمہ اور تعلیم و صحت جیسی سہولیات پر خرچ کئے جا سکتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ تحقیق مثبت استعمالکے ساتھ ساتھ اس کے منفی پہلو بھی ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، پاکستان سائنسی تحقیق کے شعبہ میں ترقی کررہا ہے، سائنس آگے بڑھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلوبل وارمنگ بہت اہم مسئلہ ہے، نہیں معلوم مستقبل میں کیا ہوگا اس لئے اس مسئلہ پر قابو پانے کےلئے تمام ممالک میں تعاون کی ضرورت ہے کیونکہ کوئی ملک اکیلے کچھ نہیں کر سکتا ، دنیا ایسے مسائل کے حل کے لئے کوششیں کرے، جنگیں مسائل کا حل نہیں بلکہ انسانیت کے لئے تباہی اور مشکلات کا سبب بنتی ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ سائنسی ترقی کے انسانی زندگی پر مثبت اثرات ہیں، ہمیں مصنوعی ذہانت کے شعبہ میں ترقی سے فائدہ اٹھانا چاہیے، پاکستان اور دیگرممالک کے لئے سائبر سیکورٹی اہم مسئلہ ہے، ہمیں اپنے سسٹم کو سائبر کرائمز سے محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد دی اور کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک سے مندوبین اس میں شرکت کر رہے ہیں، امید ہے کہ اس کانفرنس سے پاکستان میں سائنس کی ترقی اور سائنسی ایجادات کے تعمیری استعمال سے متعلق رہنمائی ملے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.