طویل انتظار نہ لمبی قطار! نادرا کا شناختی کارڈ کے اجرا کا نظام تبدیل لیکن فیس پرانی
اسلام آباد نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شناختی کارڈ کے اجرا کے نظام میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) کی ترسیل کا دورانیہ نمایاں طور پر کم کر دیا ہے اور خاندانی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (ایف آر سی) کو پہلی بار مکمل قانونی حیثیت دے دی ہے۔
نادرا کے ترجمان کے مطابق نارمل کیٹیگری میں شناختی کارڈ اب 30 دن کے بجائے صرف 15 دن میں جاری ہوگا جبکہ ارجنٹ کیٹیگری کے لیے درخواست گزار 1150 روپے فیس ادا کرکے صرف 12 دن میں کارڈ حاصل کر سکیں گے۔
اسی طرح ایگزیکٹو کیٹیگری میں 2150 روپے فیس کے بدلے صرف 6 دن میں شناختی کارڈ کی فراہمی ممکن بنائی گئی ہے۔
نادرا نے پہلی مرتبہ شناختی کارڈ حاصل کرنے والے افراد کے لیے یہ سہولت مکمل طور پر مفت فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ نادرا نے غیر چپ والے قومی شناختی کارڈز کی بھی جدید تقاضوں کے مطابق تجدید کی ہے جو اب اردو اور انگریزی زبان میں معلومات (نام اور والدین کا نام) کے ساتھ جاری کیے جائیں گے جبکہ ان میں ڈیجیٹل تصدیق کے لیے ایک کیو آر کوڈ بھی شامل کیا گیا ہے۔
ان تمام جدید سہولیات کے باوجود شناختی کارڈ کے اجرا کی فیس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا جو کہ عوام کے لیے ایک خوش آئند اقدام ہے۔
نادرا نے اصلاحات کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے خاندانی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (ایف آر سی) کو قانونی حیثیت دے دی ہے، جو پہلے صرف ایک معاون دستاویز کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔
اب ہر شہری کو اپنے دیے گئے خاندانی کوائف کی درستگی کی تحریری تصدیق دینا ہو گی، اور نیا ایف آر سی صرف نادرا کے تصدیق شدہ ڈیٹا کی بنیاد پر جاری کیا جائے گا جس سے جعلی اندراج اور شناختی فراڈ کا مؤثر خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔