بلاول بھٹو زر داری کا ایچ آئی وی کے متاثرین کو زندگی بھر علاج کی سہولت دینے کااعلان

0 124

لاکاڑنہ(امروز نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زر داری نے ایچ آئی وی کے متاثرین کو زندگی بھر علاج کی سہولت دینے کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایچ آئی وی سزائے موت نہیں ،اس کا علاج ہوسکتا ہے ،ایچ آئی وی اور ایڈز میں بہت فرق ہے، بیماری کو پھیلنے سے روک نے کےلئے مرض کی زد میں آنے والوں کےلئے علاج کی سہولت پہنچانی ہوگی ،ایچ آئی وی کے متاثرہ بچے اور والدین کے نام منظر عام پر نہ لائے جائیں، متاثرین کے نام منظر عام پر لانا برداشت نہیں کرینگے۔ ہفتہ کو چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں نوڈیرو ہاﺅس لاڑکانہ میں اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایچ آئی وی پر قابو پانے کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے منیجر ڈاکٹر سکندر میمن نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اجلاس میں بریفنگ دی۔اجلاس میں سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے علاوہ مشیر اطلاعات سندھ مرتضی وہاب، وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ بھی شریک ہوئے۔اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایچ آئی وی کے تدارک کے لئے مزید بھرپور اور جامع حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایچ آئی وی سزائے موت نہیں، اس کا علاج ہوسکتا ہے، ایچ آئی وی کے متاثرین کو زندگی بھر علاج کی سہولت دی جائے گی۔انہوںنے کہاکہ ہمارے ملک میں ایچ آئی وی سے متعلق آگاہی نہیں ہے،ایچ آئی وی اور ایڈز میں بہت فرق ہے، ایچ آئی وی کا علاج نہ ہو تو دس سال بعد ایڈز کا ایشو ہو سکتاہے۔انہوں نے کہا کہ ہر کسی کو آگاہی ہونی چاہیے کہ وہ خود کو ایچ آئی وی سے بچا سکے، ماضی میں ایچ آئی وی یا ایڈز کو خطرناک سمجھا جاتا تھا۔بلاول بھٹونے کہا کہ لاڑکانہ اور رتودیرو میں ایچ آئی وی کی وبا نہیں ہے، ایچ آئی وی کا علاج ہو سکتاہے، علاج موجود ہے۔پی پی چیئرمین نے کہا کہ ایچ آئی وی کے علاج کے لئے وزیراعلیٰ سندھ کو انڈومنٹ فنڈ بنانے کی ہدایت کی ہے، بیماری کی زد میں آنے والوں کے لئے علاج کی سہولت پہنچانی ہوگی تاکہ اس بیماری کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔بلاول نے کہا کہ ایچ آئی وی کے متاثرہ بچے اور والدین کے نام منظر عام پر نہ لائے جائیں، متاثرین کے نام منظر عام پر لانا برداشت نہیں کرینگے۔چیئرمین پی پی نے کہا کہ کوئی ایک حکومت اکیلے اسکا مقابلا نہیں کر سکتی ، میں سب سے مدد مانگتا ہوں، مل کر اس بیماری کے خلاف جنگ لڑنے کی ضرورت ہے آئیں ہمارا ساتھ دیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایچ آئی وی پر قانون سازی کی ہے اور سندھ قانون سازی کرنے والا واحد صوبہ ہے۔اس سے قبل چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری لاڑکانہ میں تعلقہ ہسپتال رتو ڈیرو پہنچے، جہاں ا±نہیں ڈاکٹروں کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔بلاول بھٹو کو بتایا گیا کہ صرف 32 دنوں میں رتو ڈیرو تعلقہ ہسپتال میں 22ہزار سے زائد افراد کی ایچ آئی وی اسکریننگ کی گئی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے تعلقہ ہسپتال رتو ڈیرو کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مزید بہتری پر زور دیا۔چیئرمین پی پی نے ایچ آئی وی اسکریننگ کیمپ میں مریضوں سے ملاقات کی اور ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے نئے قائم ہونے والے وارڈ کا دورہ بھی کیا۔بلاول بھٹو زرداری نے ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے والدین کو حوصلہ دیا اور کہا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ، وزیر صحت عذرا پیچوہو، سندھ کے مشیر اطلاعات مرتضی وہاب اور پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو بھی موجود تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.