سینیٹر مشاہد حسین سید کی زیر صدارت ذیلی کمیٹی برائے موسمی تغیرات کا اجلاس
اسلام آباد (امروز نیوز) وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کو سرسبز و شاداب اور صاف ستھرا بنانے کے حوالے سے سینیٹر مشاہد حسین سیدکی سربراہی میں تشکیل دی جانے والی ذیلی کمیٹی برائے موسمی تغیرات نے اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز سے گزرنے والے نالوں، کچی آبادیوں کے سیوریج سسٹم اور مختلف سیکٹرز میں تعمیرہونے والی بلندو بالا عمارتوں کے غیر قانونی نالوں میں سیوریج سسٹم کے معاملات کے علاوہ کوڑا کرکٹ کوڈمپ کرنے کےلئے منتخب ہونے والی نئی جگہ سنگجانی کا دورہ بھی کیا گیا ۔ذیلی کمیٹی نے سیکٹرزF اور Eسے گزرنے والے مختلف نالوں کا دورہ کرتے ہوئے صفائی کا جائزہ لیا ۔ ڈائریکٹر صفائی سی ڈی اے نے ذیلی کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد میں قائم کچی آبادیوں میں ہوش ربا اضافے سے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ جہاں 66کواٹرز کی اجازت تھی وہاں 486کواٹرز بن چکے ہیں کچی آبادیوں میں سیوریج سسٹم کے حوالے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی۔ تمام آبادیوں کا سیوریج نالوں میں گرتا ہے جس سے نالوں میں گندی اور پانی کے بہاﺅ میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں تقریبا ً بیس کے قریب نالے گزرتے ہیں اور گیارہ کے قریب نالہ لئی میں جا گرتے ہیں اور ایک نالہ راول جھیل میں گرتا ہے ۔ پانچ نالے گورنگ دریا میں جا تے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ حکومت دو کچی آبادیوں کو ایک سکیم کے تحت نئے ہاﺅسنگ منصوبے میں شفٹ کر رہی ہے جس پر ذیلی کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں اسلام آباد میں قائم کچی آبادیوں کو ایک جگہ شفٹ کرنے کے حوالے سے معاملات کا جائزہ لیا جائے گا ۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ سیکٹرI-9میں ایک پلانٹ ہے مگر کنکٹیوٹی کا مسئلہ ہے ذیلی کمیٹی نے پارکوں کی انتہائی خراب صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور پارکوں میں کوڑا دان نہ ہونے پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔ سیکٹر E-11میں دورے کے دوران بلند و بالا عمارتوں اور وہاں پر قائم شادی ہالز کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ انکی سیوریج کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تمام سیوریج قریبی گزرنے والے نالوں میں گرایا جا رہا ہے ۔جس پر کنونیئر کمیٹی نے کہا کہ دورے کے دوران جو چیزیں سامنے آ رہی ہیں اس سے یہ بات واضح ہے کہ یہ معاملات سی ڈی اے کے بس کے نہیں ہےں اعلیٰ سطح کی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔وفاقی دارلحکومت میں نالہ مینجمنٹ سسٹم کی اشد ضرورت ہے ۔ ہمارا فرض ہے کہ موسمی تغیرات کی بات کرتے ہیں تو وفاقی دارلحکومت کے ماحول اور آب و ہوا کا تحفظ کرنا بھی ضروری ہے ۔حکومت کو اس حوالے سے پالیسی بنا کر سی ڈی اے سے عملدرآمد کرانا چاہئے ۔ذیلی کمیٹی نے سنگجانی کا دورہ کر کے کوڑے کو ڈمپ کرنے کے حوا لے سے منتخب ہونے والی سائڈ کا دورہ کیا ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ اسلا م آباد ائیر پورٹ سے 16کلومیٹر دور ہے ۔ مندرہ اور سنگجانی میں سے ایک جگہ کو ڈمپنگ کے لئے منتخب کرنا ہے سٹڈی کرائی جا رہی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل تحفظ ماحولیاتی ایجنسی نے کمیٹی کو بتایا کہ 2004میں جاپان کی ایک کمپنی جیکا (JECA)نے ایک منصوبہ بنایا تھا جس میں اسلام آباد کے کوڑا کرکٹ کو ڈمپ کرنا تھا منصوبے پر جاپان کی حکومت نے فنڈز فراہم کرنے تھے۔ بحریہ انکلیو میں یہ منصوبہ لگنا تھا مگر اُس پر کام نہ ہو سکا جس پر کنوینیر کمیٹی نے کہا کہ جیکا کا اچھا منصوبہ تھا مگر قبضہ مافیا کی نظر ہو گیا ۔اب پندرہ سال ہو چکے ہیں ہمیں کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنا چاہئے۔ ذ یلی کمیٹی کے دورے میں سینیٹر محمد علی سیف کے علاوہ ڈائریکٹر صفائی سی ڈی اے، ڈائریکٹر جنرل ایپا ، سماجی تنظیم سرسبز و شاداب پاکستان کی ڈوشکاسید ، کرسٹینا اور دیگر حکام بھی شامل تھے۔