بیماری سے نجات کا ذریعہ،ورزش
ورزش صحت و دماغ کیلئے مفید
انسان کا جیسے ہی عمربڑھتا جاتا ہے ، ویسے ہی انہیں صحت کے گمبیرمسائل سے گزرنا پڑھتا ہے ۔ عمر کے بڑھنے کے ساتھ ہی انسان کا یاداشت بھی متاثر ہوتا رہتا ہے ۔
عمر بڑھنے کے ساتھ انسان کو ڈیمینشیانامی بیماری کا سامنہ کرنا پڑھتا ہے ۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے ، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نمودار ہوتی ہے اس بیماری کی وجہ سے انسان کا حافظہ کمزور پڑھ جاتا ہے ۔ اس بیماری سے بچنے کیلئے ماہر ڈاکٹرز نے بہت تحقیق کی ہے ۔
کینیڈا کی یونیورسٹی کے پروفیسر کا کہنا ہے کہ انسان اگر جسمانی طور پر مظبوط نہیں ہو گا ، تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسے ڈیمینشیا نامی بیماری لاحق ہے ۔
ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ورزش ان بیماری سے نجات کا منفرت ذریعہ ہے ۔ اس حوالے سے بڑھے عمر والوں کو ورزش کرائی گئی جو قدرے بہتر ثابت ہوئی ، اور ورزش سے ان کے یاداشت بھی بہتبہتر ہوئی ۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اب ہمارا اگلا کام یہ ہے کہ ہم سمجھ سکے کہ ورزش کس طرح دماغ کو تبدیل کرتی ہے ، اس حوالے سے ہم نے کچھ مشق مرتب کروائے ہیں جو ذیل ہیں ۔
تندرست دماغ کیلئے تربیت
بڑھتی ہوئی عمرکو ڈیمینشیا پیدا ہونے کے کچھ خطرہ ہوتے ہیں، اس بیماری میں ہمارے طرزِزندگی بہت اہمیت کی حامل ہے۔
نئے شواہد کے مطابق بہتر طرزِزندگی، تعلیم اور صحت کا خیال ڈیمینشیا کی بیماری کے خطرات میں واضح کمی کرتا ہے۔
تندرست دماغ کیلئے سب سے زیادہ مددگار جسمانی طور پربہتر رہنا ہے، جسمانی طور پربہتر رہنا یعنی ورزش کرتے رہنے سے ڈیمینشیا کے خطرات کم ہوجاتے ہیں۔
ورزش جسم کا غذا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش ایک ایسی چیز ہے جو کہ دماغ کو دوبارہ تخلیق کرنے کے مترادف ہے، ورزش کرنے سے دماغ میں نئے نیورونز بنتے ہیں جو کہ حافظے کو بہتر بناتے ہیں، ورزش کرنے سے جسم میں نئے خلیوں کی افزائش اور دماغ کی بہترین نشونما ہوتی ہے۔
زیادہ ورزش زیادہ تندرستی کا ضامن
ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش کی شدت بے حد معنی رکھتی ہے، تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اگر اپ ورزش کی شدت میں اضافہ کردیں گے تو اس کے صحت پر حیرت انگیز نتائج برامد ہوں گے۔
ورزش کی شدت میں اضافہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ چہل قدمی سے زیادہ بہتر دوڑ صحت کے لیے مفید ہے۔