افغانستان میں امن سے سٹیک ہولڈرز فائدہ اٹھاسکتے ہیں ، زاخیل وال

0 151

اسلام آباد (امروز نیوز)پاکستان میں افغانستان کے سابق سفیر عمرزاخیل وال نے کہاہے کہ افغانستان میں امن کے مواقع سے عالمی برادری سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو فائدہ اٹھانا ہو گا،افغان امن کے پاکستان پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے،افغان امن تمام شراکت داروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے،جنگ اور امن ایک ساتھ نہیں چل سکتے،افغان امن کے لیے انٹرا افغان ڈائیلاگ کی ضرورت ہے،تمام سٹیک ہولڈرز کو ملکر افغانستان میں تشدد کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ منگل کو ”پاک افغان ٹریک ٹو ڈائیلاگ “کے موضع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق افغان سفیر ڈاکٹر عمر زاخیلوال نے کہاکہ ایسی اہم بیٹھک کا حصہ بننے پر خوشی ہے۔ انہوںنے کہاکہ افغان جنگ نے نہ صرف افغانستان کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ ہمسایہ ممالک پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ افغانستان میں امن کے مواقع سے عالمی برادری سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو فائدہ اٹھانا ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ افغان امن کے پاکستان پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوںنے کہاکہ افغانستان میں ایسا امن چاہتے ہیں جو ہمسایہ ممالک کے تعاون سے ہو۔ انہوںنے کہا کہ افغان امن تمام شراکت داروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان نے افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان دوحا مذاکرات میں سہولت کاری کی ہے۔ انہوںنے کہاکہ افغان امن کے لیے انٹرا افغان ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کے بغیر افغان مسئلہ کا حل ممکن نہیں۔ انہوںنے کہاکہ ایسے مواقع ماضی میں نہیں آئے جو اس وقت ہیں۔ انہوںنے کہا کہ مواقع بھی بڑے ہیں مگر چیلنجز بھی کم نہیں۔ انہوںنے کہاکہ جنگ اور امن ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔انہونے کہاکہ تمام سٹیک ہولڈرز کو ملکر افغانستان میں تشدد کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ تشدد کے خاتمہ اور پر امن ماحول کے ذریعے ہی مذاکرات ممکن ہو سکتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ افغانستان میں عام افراد پرتشدد کاروائیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ سابق سفیر نے کہاکہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ ایسی پالیسیاں تشکیل دی جائیں جو امن کے مواقع اور امید پیدا کریں۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ امن کے قیام کے لئے ہمسایہ ممالک کو آپس میں کوآرڈینیشن بہتر بنانا ہو گی۔ انہوںنے کہاکہ اس بات کا ادراک ہے کہ خطے میں بہت مسائل اور بداعتمادی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں افغان امن کے لیے ان تنازعات کو ایک طرف رکھنا ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ یہ جنگ اس لئے جاری نہیں رکھی جا سکتی کہ کچھ ہمسایوں کے تنازعات ہیں اور وہ اکھٹے بیٹھ کر بات نہیں کر سکتے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.