میڈیکل سپریٹنڈنٹ سول سنڈیمن ہسپتال کوئٹہ ڈاکٹر محمد سلیم ابڑو نے کہا ہے

0 175

کوئٹہ(این این آئی)میڈیکل سپریٹنڈنٹ سول سنڈیمن ہسپتال کوئٹہ ڈاکٹر محمد سلیم ابڑو نے کہا ہے کہ لورالائی میں جاں بحق ہونے والے پروفیسر محمد ابراہیم ارمان لونی کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد کے نشانات نہیں ملے پوسٹ مارٹم کے عمل میں سول ہسپتال کوئٹہ کے ڈاکٹرز کی ٹیم کے ساتھ لورالائی کے ڈاکٹرز وائی ڈی اے کے رہنماء متوفی کے ورثاء بھی موجود تھے پوسٹ مارٹم کا تمام ریکارڈ اور تصاویر ایکس رے موجود ہیں جن کا موازنہ دنیا کی کسی بھی لیبارٹری سے کرایا جاسکتا ہے متوفی محمد ابراہیم ارمان لونی کی وجہ موت کا حتمی تعین کرنے کے لئے ان کا دل اور خون کے نمونے فرانزک لیب بھیجوا دئیے گئے ہیں جس کی رپورٹ 20 روز میں موصول ہوجائے گی یہ بات انہوں نے سول ہسپتال کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض اور ڈپٹی ایم ایس ڈاکٹر زبیر بھی موجود تھے اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں کو مختلف میڈیکل رپورٹس اور امیجز بھی دکھائے گئے ایم ایس سول ہسپتال کوئٹہ نے کہا کہ ہم نے روز اول سے ہی یہ درخواست کی تھی کہ اس معاملے پر کسی بھی قسم کی سیاست سے گریز کیا جائے پوسٹ مارٹم کا تمام عمل شفاف رکھا گیا اور معاملے کی نزاکت کے پیش نظر میڈیکل ضوابط کی روایات کو بالا طاق رکھتے ہوئے تمام افراد کو جائے پوسٹ مارٹم تک رسائی فراہم کی گئی تاکہ کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات نہ رہیں اور ناانصافی کا کوئی عنصر نہ رہے انہوں نے کہا کہ فرانزک لیب کی رپورٹ میں پروفیسر ارمان کی موت کی وجہ (کاز آف ڈیتھ) سامنے آجائے گی پریس کانفرنس میں پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے بتایا کہ متوفی پروفیسر کے اندرونی و بیرونی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ واضح ہیں اور ریکارڈ پر موجود ہیں جو کہ مصدقہ اسٹینڈرڈ کے عین مطابق ہیں جن کا موازنہ دنیا کی کسی بھی جدید میڈیکل لیب سے کرایا جاسکتا ہے پوسٹ مارٹم کے معاملات میں شفافیت کو مقدم رکھا گیا ہے اور کسی سے بھی کوئی ناانصافی نہیں ہوگی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.