: نیشنل پارٹی بلوچستان سمیت دنیا کے کسی بھی کونہ میں بسنے والے مظلوم ومحکوم عوام کے نمائندہ جماعت بن چکی ہے

0 145

مستونگ: نیشنل پارٹی بلوچستان سمیت دنیا کے کسی بھی کونہ میں بسنے والے مظلم ومحکوم عوام کے نمائندہ جماعت بن چکی ہے بلوچ نوجوانوں کو ایک منظم و مضبوط پلیٹ فارم پر متحد کیا جس کے بدولت آج بلوچ نوجوانوں شعوری سیاست کے طرف گامزن ہیں بلوچستان میں شعوری سیاست کا گڑھ مستونگ ہے اور ہر دور میں ہر ظلم کے خلاف جو تحریک مستونگ سے شروع ہوئی وہ کامیابی سے ہمکنار ہوئی مستونگ نے سیاست ادب اور صحافت کے میدان میں نامور شخصیات پیدا کئے ان خیالات کا اظہار نیشنل پارٹی کے صوبائی نائب صدر و سابق صوبائی وزیر رحمت صالح بلوچ، مرکزی فنانس سیکریٹری حاجی فدا حسین دشتی نے کھڈ کوچہ فاروق آباد مستونگ کا غیر رسمی دورہ کے موقع پر نیشنل پارٹی و بی ایس پجار مستونگ کے ساتھیوں اور کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے کی۔اس موقع پرمرکزی کمیٹی کے رکن چئیرمین اسلم بلوچ، ملک نصیر شاہوانی، صوبائی سوشل میڈیا سیکریٹری سعد دہوار بلوچ ضلعی نائب صدر حاجی نذیر سرپرہ تحصیل صدر نثارمشوانی سابق صدر غلام فاروق شاہوانی بی ایس او پجار کے زونل صدر ناصر بابل ملک بلوچ بلوچ عمیر بلوچ ظفر بلوچ، ضلع کوئٹہ کے فنانس سیکریٹری سعید سمالانی ودیگر بھی موجود تھے۔نیثنل پارٹی کے رہنماوں نے چئیرمین منظور بلوچ کے ناگہانی وفات کوبلوچستان میں سیاسی حوالےسے بہت بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے اظہار افسوس کیااور کہاکہ چئرمین منظور بلوچ ایک مخلص نڈر اور قوم دوست رہنما تھے بلوچستان کے سیاسی میدان میں انکی کمی ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی۔انھوں نے کہاکہ مستونگ بلوچ قوم پرستانہ سیاست کا ایک اہم ستون تصور کیاجاتاهے ضلع مستونگ نے ادیب دانشور اوربلوچ قومی جہد کے لیے عظیم لیڈرز جنم دے چکے ہیں میر عبدالعزیز کرد ملک سعید احمد دھوار بابو عبدالکریم شورش ملک عبدالرحمن خواجہ خیل ملک فیض محمد یوسفزئی نے 1820میں مستونگ ہی سے ینگ بلوچ کے نام سے باقاعد طورپر بلوچ قومی تحریک کا آغاز کیا جو مختلف نشیب و فراز سے ہوتے ہوے جو آج بلوچستان اور دنیا کے کسی بھی کونہ میں بسنے والے مظلم ومحکوم عوام کے نمائند جماعت بن چکے ہیں اقابرین نے خصوصاً مستونگ کے سیاسی صورتحال پر مفصل گفتگو ہوئی۔ انہوں مزید کہا بلوچستان میں شعوری سیاست کا گڑھ مستونگ هے جو بلوچ نوجوانوں کو ایک منظم و مضبوط پلیٹ فارم پر متحد کیا جس کے بدولت آج بلوچ نوجوانوں شعوری سیاست کے طرف گامزن ہیں۔۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.