سپریم کورٹ نےجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس خارج کر دیا

0 166

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اپنے مختصرفیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس خارج کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے چار بجے سنائے گئے اپنے مختصر فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسی کی ریفرنس کالعدم قرار دینے کی درخواست منظور کرلی۔

سپریم کورٹ میں دس رکنی لارجر بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کی جس میں وفاق کے وکیل فروغ نسیم ,نے ایف بی آر کے دستاویز سر بمہر لفافے میں عدالت میں جمع کرائیں۔

فائز عیسیٰ کیس: ’یہ جمپ کیسے لے لیا کہ خاوند سپریم کورٹ کا جج ہے تو وہی جائیداد کا بتائے گا‘
فائز عیسیٰٰ کیس: ذہن میں رکھیں ایک جمہوری حکومت کو ججز کی جاسوسی پر ختم کیا جا چکا، سپریم کورٹ
جب کہ ایف بی آر کی جانب سے بھی جسٹس قاضی کی اہلیہ کا ٹیکس ریکارڈ عدالت میں جمع کرایا گیا۔

فروغ نسیم کے ریکارڈ پر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم ابھی اس لفافے کا جائزہ نہیں لیتے اور نہ ہی اس پرکوئی آرڈر پاس کریں گے، معزز جج کی بیگم صاحبہ تمام دستاویز ریکارڈ پر لاچکی ہیں، آپ اس کی تصدیق کروائیں، ہم ابھی درخواست گزار کے وکیل منیر ملک کو سنتے ہیں۔

اس دوران جسٹس قاضی فائز کے وکیل منیر اے ملک نے بھی سر بمہر لفافے میں دستاویزات عدالت میں پیش کردیں۔

اس کے علاوہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے زرعی زمین اور پاسپورٹ کی نقول بھی جمع کرائیں۔

منیر اے ملک نے اپنے جوابی دلائل میں کہا کہ افتخار چوہدری کیس میں سپریم جوڈیشل کونسل پربدنیتی کے الزامات تھے، فروغ نسیم نے کہا ان کا اصل کیس وہ نہیں جو ریفرنس میں ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کبھی اہلیہ کی جائیدادیں خود سے منسوب نہیں کیں، الیکشن اور نیب قوانین میں شوہر اہلیہ کے اثاثوں پر جوابدہ ہوتا ہے، فروغ نسیم نے کہا جسٹس قاضی فائز عیسی نے سپریم کورٹ آنے میں دیر کردی، بد قسمتی سے فروغ نسیم غلط بس میں سوار ہوگئے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.