حکومت کیخلاف ہر غیر جمہوری عمل کا مقابلہ کریں گے، اتحادی جماعتیں

0 169

کوئٹہ (امروز ویب ڈیسک)بلوچستان حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں اے این پی ،ایچ ڈی پی اور جے ڈبلیوپی نے تحریک عدم اعتماد کا حصہ نہ بننے کااعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ جام کمال کی حکومت قائم اور مضبوط ہوگی ،بحیثیت اتحادی ہماری شروع دن سے کوشش رہی ہے کہ ناراض ارکان کو منالیں ،اپوزیشن ترقی کیخلاف پہلے دن سے سازش کررہی ہے حکومت کیخلاف ہر غیر جمہوری عمل کا مقابلہ کریں گے، بلوچستان کی مخلوط حکومت متحد ہے ، نہ جانے کن وجوہات پر ہمارے ساتھی ضد میں ہیںسیاسی بحران سے تمام مکتبہ فکر کے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ان خیالات کااظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر وپارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی ،ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین عبدالخالق ہزارہ اور جمہوری وطن پارٹی کے نوابزادہ گہرام بگٹی نے وزیراعلیٰ ہاﺅس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اصغرخان اچکزئی نے کہاکہ یہ صورتحال حکومت کی تشکیل کے دن سے ہمیں درپیش ہے،

اپوزیشن ترقی کیخلاف پہلے دن سے سازش کررہی ہے، جام کمال کی حکومت قائم رہے گی ہم متحد ہیںاپوزیشن نے ہمیشہ بجٹ کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی، اصغر خان اچکزئی نے کہاکہ ایک ماہ سے بلوچستان میں سیاسی بحران ہے اس صورت حال کے منفی اثرات ہر طبقے پر مرتب ہوں گے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جمہوریت کیلئے جدوجہد اور بلوچستان میں حکومت کے خلاف غیر جمہوری کردار ترقی کے خلاف سازش ہے انہوں نے کہاکہ 25 جولائی کے بعد سے ہم اس صورت حال کا سامنا کررہے ہیں پہلے بجٹ پھر دوسرا بجٹ اور تیسرے بجٹ پر صورت حال سب کے سامنے ہے 2020-21 کا بجٹ میں احتجاج کرکے چلے گئے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا جس سے ترقیاتی کام رک گیئے ،انہوں نے کہاکہ اپوزیشن نے بجٹ پر احتجاج کیا 5 پیسوں کی خاطر بلوچستان کے قومی شاہراہوں کو بند کیا بجٹ اجلاس کے دن دنیا نے سب کچھ دیکھ لیا اپوزیشن پارلیمنٹ پر حملہ ہوا گملے پھینکے گئے

تمام تر جمہوریت دشمن اقدامات اٹھائے پتہ نہیںاپوزیشن23 کی تعداد میں کس بنیاد پر اکثریت کی بات کرتے ہیں تحریک عدم اعتماد جمع ہوئے اس پر سوالات اٹھے اب کس بنیاد پر اکثریت کے مالک ہیں بلوچستان کی مخلوط حکومت نے شروع دن سے سازشوں کا مقابلہ کیا اے این پی ایچ ڈی پی جے ڈبلیو پی اور پی ٹی آئی بلوچستان میں اتحاد قائم رکھے گی ایسے سازشوں ناکام بنائیں گے۔ اس موقع پرخالق ہزارہ نے کہا کہ ہمارءذمہ داری تھی کہ ناراض ارکان کے پاس جائیں ہم سب کے پاس گئے کچھ ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ہم پھنس گئے پھر خیر سگالی کے تحت ہم ان کے سامنے باتیں رکھی کہ گھر کا مسئلہ گھر میں حل کیا جائے۔ کن وجوہات کی بنا پر وہ بضد ہیں ہماری کوشش ہوگی کہ ہم ایک ایک ساتھی سے ملے پارلیمانی اقدار کو قدغن سے محفوظ بنانا ہے جام کمال کی حکومت کہیں نہیں جائے گی۔ الزامات ہم بھی لگا سکتے ہیں یہ گھر کا مسئلہ ہے مائنس ون غیر جمہوری ہے ایک پوائنٹ پر ڈٹا نہیں رہناچاہےے سیاسی معاملات ہے اس میں افہام وتفہیم ہونی چاہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.