بیرون ملک بیٹھے لوگ شدت پسندی کیلئے خواتین کو استعمال کررہے ہیں : فرح عظیم شاہ
کوئٹہ : حکومت بلوچستان کی ترجمان فرح عظیم شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی جام کمال خان کے دعوے دھر ے کے دھرے رہ جائیں گے، خواتین کے شدت پسندی کی طرف مائل ہونے سے متعلق طویل المدتی پالیسی مرتب کی جارہی ہے،بیرون ملک بیٹھے لوگ شدت پسندی کے لئے نوجوانوں اور خواتین کو استعمال اور خود عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں، پیر کوہ میں صورتحال بہتر ہے 6لاکھ لیٹر یومیہ پانی کی فراہمی جاری ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو آفیسرز کلب کوئٹہ میں سیکرٹری صحت صالح ناصر، کمشنر سبی بالا چ عزیز سمیت دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ ترجمان حکومت بلوچستان فرح عظیم شاہ نے کہا کہ پیر کو ہ میں ہیضے، اسہال او ر ملیریا کی وباء پھیلتے ہی وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو وہاں پہنچ کر ریلیف کے کام شروع کرنے کی ہدایت کی حکومت نے پیرکوہ میں خصوصی کیمپ قائم کیا جس میں 24ڈاکٹر اور 32پیرامیڈیکس موجود ہیں جبکہ پیر کوہ کو پانی کی فراہمی کے لئے 30کروڑ روپے کے فنڈز بھی جاری کردئیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیر کو ہ میں پتھر نالہ سے آنے والے پانی کو صرف گھریلو استعمال کے لئے رکھا گیا ہے جبکہ پینے کے لئے 6 لاکھ گیلن پانی یومیہ ٹینکرز کے ذریعے فراہم کیا جارہا ہے جو کہ پانی سپلائی اسکیمات کی تکمیل تک جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی کو پانی کی فراہمی کے لئے 1 ارب 77 کروڑ کے منصوبے دیئے گئے ہیں جن پر عملدآمد جلد شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پیر کوہ میں 142 ٹینکرز کے ذریعے پانی فراہم کیا جارہا ہے جبکہ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے علاقے کو ادویات اور ایمبولینس بھی فراہم کی گئی ہے گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہیضے تک تین مریض سامنے آئے ہیں جبکہ اب تک 7 اموات ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت ہے کہ صوبے کی ترقی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ ایک سوال کے جواب میں فرح عظیم شاہ نے کہا کہ شیرانی کے جنگلات میں لگی آگ بجھانے کی کوششیں جاری ہیں کوئٹہ سمیت صوبے بھر کے ترقیاتی کاموں میں سست روی کو ختم کیا جارہا ہے کوئٹہ پیکج کی تمام اسکیمات پر کام شروع ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی اے پی کے پارلیمانی لیڈر وزیراعلیٰ میر عبدالقد وس بزنجو ہیں جام کمال کے دعوے محض دعوے رہ جائیں گے صوبہ اس وقت سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا ہم صوبے کی ترقی اور خوشحالی کا سفر رکنے نہیں دیں گے تحریک عدم اعتماد لانے والے اپنا شوق اور نمبر پورے کریں انہیں سرپرائز ملے گا اور وزیراعلیٰ بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب ہونگے انہوں نے کہا کہ صوبے میں خواتین کے شدت پسندی کی جانب مائل ہونے سے روکنے کے لئے حکومت نے طویل المدتی جامع منصوبہ بنایا ہے بیرون ملک بیٹھے لوگ خود عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں جبکہ صوبے کے بچوں،نوجوانوں اور خواتین کو شدت پسندی کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں خواتین کو استعمال کرنے والے بلوچی روایات کی پامالی کر رہے ہیں بلوچ اس طرح سے بے غیرتی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسائل حل بات چیت کے ذریعے ممکن ہے بیرون ملک بیٹھے لوگ واپس آئیں اور صوبے میں رہ کر حقوق کی جنگ لڑیں ہم نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں کا حصہ نہیں بننے دیں گے۔ اس موقع پر سیکرٹری صحت صالح ناصر اور کمشنر سبی ڈویژن بالاچ عزیز نے کہا کہ پیر کوہ میں یکم مئی سے ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی اب تک علاقہ مکینوں کے مطابق 24 جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 7 اموات ہوئی ہیں صوبے کے 6 اضلاع کے ہسپتالوں میں مکمل سہولیات موجود ہیں جبکہ دیگر علاقوں میں سہولیات کی فراہمی جارہی ہے ہمارے پاس ڈاکٹر ہیں مگر آلات نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنا کام درست انداز میں نہیں کر پاتے۔