والد کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے دعوؤں پر یقین نہیں : ایوانکا ٹرمپ
امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں اپنے والد کے ان دعوؤں پر یقین نہیں کہ 2020 کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے انہیں ہرایا گیا۔
6 جنوری 2021 کو کیپیٹل ہل حملے کی تحقیقات کرنے والی کانگریس کمیٹی کی سماعت کے دوران ایوانکا ٹرمپ نے یہ بات کہی۔
کانگریس کمیٹی کے لیے اپنے ویڈیو بیان میں ایوانکا ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس وقت کے اٹارنی جنرل بل بار کے اس بیان کو تسلیم کرتی ہیں کہ انتخابات شفاف اور منصفانہ تھے۔انہوں نے کہا ‘ میں اٹارنی جنرل بل بار کا احترام کرتی ہوں اور جو انہوں نے کہا اسے تسلیم کرتی ہوں’۔
ایوانکا ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے والد کو بار بار سمجھایا تھا کہ وہ انتخابات میں شکست کھا چکے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے عہد میں وائٹ ہاؤس کی مشیر رہنے والی ایوانکا ٹرمپ نے کہا کہ بل بار کے الفاظ نے انتخابات کے بارے میں ان کے خیالات کو بدلا۔
بل بار نے اس موقع پر کہا تھا کہ محکمہ انصاف کو انتخابات میں دھاندلی کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا اب بھی دعویٰ ہے کہ 2020 کے صدارتی انتخابات کے دوران متعدد اہم ریاستوں میں ووٹنگ فراڈ ہوا تھا، جس کے باعث انہیں شکست ہوئی۔
کانگریس کمیٹی کی سماعت کے دوران بل بار بھی ویڈیو کے ذریعے پیش ہوئے اور انہوں نے سابق امریکی صدر کے دھاندلی کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بار بار صدر کو بتایا کہ فراڈ کے کوئی شواہد نہیں مل سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا تھا کہ ان کے الزامات بے بنیاد ہیں۔
خیال رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن میں شکست پر ان کے حامیوں نے امریکی پارلیمنٹ کی عمارت پر حملہ کیا تھا جس کی انہوں نے حمایت کی تھی جب کہ اس واقعے کے بعد ٹرمپ کو مؤاخذے کی تحریک کا بھی سامنا تھا جو کامیاب نہ ہوسکی۔
کیپیٹل ہل حملے کی حمایت کرنے پر ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بلاک کردیے گئے تھے۔اس واقعے کی تحقیقات ابھی بھی جاری ہے۔