سندھ کا 17 کھرب سے زائد کا ٹیکس فری بجٹ پیش؛ تنخواہوں میں 15 اور پنشن میں 5 فیصد اضافہ

0 259

وزیراعلیٰ سندھ مرا د علی شاہ نے صوبے کا 1713 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیاہے جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی صوبہ 15 فیصد سے زائد تنخواہوں میں اضافہ کرے گا تو ہم بھی کر دیں گے ۔ان ناکا کہناتھا کہ ہم نے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کریں گے ۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس سپیکر آغا سیراج درانی کی زیر صدارت جاری ہے جس دوران وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ حکومت کے بجٹ کا حجم 1713 ارب 58 کروڑ روپے ہے جس میں سالانہ مجموعی ترقیاتی پروگرام کے لیے 459 ارب، تعلیم کے لیے 326 ارب روپے اور صحت کے لیے 219 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کے لیے 174 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ زراعت کی بہتری پر 24 ارب روپے خرچ ہوں گے اور لوکل گورنمنٹ کے لیے 78.59 ارب روپے مختص ہیں

سالانہ ترقیاتی بجٹ کے 459 ارب کے حجم میں سے صوبے کی 4158 اسکیموں کے لیے مقامی وسائل سے 332 ارب روپے خرچ ہوں گے جب کہ 91.14 ارب روپے غیر ملکی فنڈز سے حاصل کیے جائیں گے۔ اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی مد میں 30 ارب روپے خرچ ہوں گے اور وفاق سے پی ایس ڈی پی کی میں میں 6.02 ارب روپے ملیں گے۔

آب پاشی کے لیے 56 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پانچ ارب روپے مینٹی ننس، 7 کروڑ 70 لاکھ کنال کی صفائی کے لیے، 15 کروڑ کی گرانٹ سے سندھ ایری گیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی قائم ہوگی۔

توانائی کے لیے 33 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔ کے الیکٹرک اور دیگر اداروں کو 26 ارب روپے واجبات کی ادائیگی کی جائے گی۔ بجلی کی ترسیل اور نظام کی بہتری کے لیے ایک ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ 10 کروڑ روپے سندھ کول اتھارٹی کے لیے، 22 کروڑ روپے سولر، پن بجلی منصوبوں، 25 کروڑ روپے اسکولوں کو بجلی پہنچانے کے لیے مختص ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.