ضمنی انتخابات؛ پی پی 168 اور 158 میں تصادم، ن لیگی کارکن کا سر پھٹ گیا
پنجاب کے حلقوں پی پی 168 اور پی پی 158 میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے کارکنان آمنے سامنے آگئے۔
پنجاب کے 20 حلقوں میں آج ہونے والے ضمنی انتخابات میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے اور سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے ہیں، تاہم مختلف پولنگ اسٹیشنز میں معمولی تصادم کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔
تصادم کا پہلا واقعہ لاہور کے حلقہ پی پی 168 کی اعوان مارکیٹ کے پولنگ اسٹیشنز 50 اور 51 میں رپورٹ ہوا جہاں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے کارکن آمنے سامنے آگئے۔
موقع پر موجود پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے صورتحال کو فوری قابو کرلیا، تاہم جب پوچھ گچھ کی گئی تو ووٹرز کا کہنا تھا کہ ووٹرز مسلم لیگ ن کو ووٹ کاسٹ کررہے ہیں، جب کہ پی ٹی آئی الزام لگا رہی کہ یہ ووٹرز ہمارے ہیں جن سے زبردستی ن لیگ کو ووٹ ڈلوائے جارہے ہیں۔
پی ٹی آئی کا الزام
تحریک انصاف کی جانب سے الزام لگایا جارہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے لوگ پولنگ اسٹیشنز کے اندر جارہے ہیں، پولنگ سٹیشن 50 اور 51 میں ووٹ کاسٹ کرنے مشکل در پیش ہیں، کیوں کہ مسلم لیگ ن نے اپنے بندے اندر تعینات کیے ہیں۔
ن لیگ کا موقف
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پی پی 168 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار اسد کھوکھر موقع پر پہنچ گئے، اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے ووٹ کا ریٹ دو ہزار ووٹ لگایا تھا، لیکن ووٹرز مسلم لیگ ن کو ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں۔
لیگی کارکن کا سر پھٹ گیا
دوسری جانب لاہور کے حلقہ پی پی 158 کے علاقے دھرم پورہ میں واقع سپریڈنٹ اریگیشن پولنگ اسٹیشن میں بھی مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے کارکنان میں تصادم ہوا اور ن لیگ کے ایک کارکن کا سر بھی پھٹ گیا۔
زخمی شخص کا بیان اور الزام
زخمی شخص کی شناخت شکیل کے نام سے ہوئی ہے، اور اس نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مجھے تحریک انصاف کے رہنما جمشید اقبال چیمہ کے کہنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
وزیرداخلہ پنجاب کا بیان
واقعے پر وزیر داخلہ پنجاب عطاء اللہ تارڑ نے بیان جاری کیا کہ پی پی 158 میں جھگڑے کا فوری نوٹس لے لیا گیا ہے، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو فوٹیجز بھی مل گئی ہیں جس میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ پی پی 158 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار احسن شرافت پر امن رہے، جب کہ پی ٹی آئی کے جمشید اقبال چیمہ اور سعید مہیس نے تشدد کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے کارکن کا سر پھاڑا گیا۔
وزیرداخلہ پنجاب نے کہا کہ کسی کو امن عامہ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، جمشید اقبال چیمہ اور سعید مہیس کی گرفتاری کا حکم دے دیا ہے۔
صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب آفس
الیکشن کمشنر پنجاب آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لاہور کے حلقوں پی پی 158 اور پی پی 168 میں پولنگ کا عمل دوبارہ شروع ہو چکا ہے، نا خوشگوار صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے۔ پولیس کی خاطر خواہ نفری نے پہنچ کر صورتحال پر قابو پا لیا ہے۔ اور ریٹرننگ افسران کی طرف سے دوبارہ پولنگ کا عمل شروع ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔
ذرائع محکمہ داخلہ کی سماء سے گفتگو
محکمہ داخلہ کے ذرائع نے سماء سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ کے ابتدائی چار گھنٹوں میں کہیں بھی پولنگ کا عمل نہیں روکا، لاہور میں ایک شخص کے زخمی ہونے کے علاوہ کوئی بڑی لڑائی یا تصادم کی اطلاع نہیں ملی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز لا اینڈ آرڈر اور پولنگ کے حوالے سے تمام معاملات کی نگرانی کر رہے ہیں، ن لیگ کے مرکزی سیکرٹریٹ سمیت تمام پولنگ اضلاع میں مانیٹرنگ رومز قائم ہیں۔
ذرائع محکمہ داخلہ نے کہا کہ پولنگ اور ووٹنگ کے دوران کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہین دی جائے گی، حساس پولنگ ایریاز میں رینجرز معمول کا گشت کررہی ہے، ضمنی انتخابات مین محکمہ داخلہ اور الیکشن کمیشن مسلسل رابطے میں ہیں۔