سری لنکا کو اب کون سے مشکل اقدامات اٹھانے ہوں گے؟
’نو ٹائم فار گوتا‘ کیونکہ ہم دنیا بھر میں چیمپیئن ہیں۔
یہ گال فیس گرین کے مقام کی ایک گرم سہہ پہر ہے جو اب سری لنکا میں احتجاجی تحریک کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس احتجاجی گاؤں میں خیموں کے سمندر کے اوپر ایک عورت کی آواز بلند ہوتی ہے، جو منفرد انداز میں گا رہی ہے۔
کئی ماہ سے یہ مظاہرین لاکھوں کی تعداد میں ’ارگالیا موومنٹ‘ میں سب سے آگے رہے ہیں، جسے سنہالی لفظ ’جدوجہد‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اس تحریک میں وہ صدر گوتابایا راجا پکشے کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے تھے۔
سری لنکا کے لوگ انھیں اور ان کے بڑے بھائی سابق صدر مہندا پکشے کو بنیادی طور پر اپنے ملک کی معاشی تباہی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ تمام توقعات کے برعکس مظاہرین کے مؤقف کی فتح ہوئی ہے۔ گذشتہ ہفتے سری لنکا کے سابق صدر ’گوتا‘ مستعفی ہونے کے بعد ملک سے فرار ہو گئے۔
لیکن اب مشکل وقت کا فیصلہ آن پہنچا ہے: راجا پکشے کے جانے کے بعد کے سیاسی نتائج سے نمٹنا اور کچھ انتہائی مشکل فیصلے کرنا۔
راجا پکشے کی اقتدار اور پھر ملک سے بے دخلی کے بعد اب مظاہرین کی نظریں ملک کے غیر معروف سابق وزیراعظم رانیل وکرما سنگھے پر مرکوز ہو گئی ہیں۔
انھیں راجا پکشے کے قریبی ساتھی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ راجا پکشے خاندان دو دہائیوں سے ملک کے سیاہ و سفید کا مالک رہا ہے۔
موجودہ صدر کی لوگوں کی نظر میں وقعت نہ ہونے کے برابر ہے۔ وکرما سنگھے ماضی میں بھی صدارتی مہمات میں ناکام رہے اور سنہ 2020 میں پارلیمنٹ میں اپنی ہی نشست سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ انھیں اب صدارتی عہدہ ملنا محض غیرمعمولی حالات کی وجہ سے ممکن ہو سکا ہے جب راجا پکشے نے جلدی میں استعفیٰ دیا تو پھر ایسے میں انھیں عبوری صدر مقرر کر دیا گیا۔
گذشتہ بدھ کو ہزاروں سری لنکن شہریوں نے وزیراعظم کے آفس کا گھیراؤ کیا۔ گال فیس گرین کے مقام پر جہاں گوتا گھر جاؤ کا نعرہ کئی ماہ سے بلند ہوتا رہا اب رانیل گھر جاؤ میں بدل رہا ہے۔
وکرما سنگھے نے تاہم قانونی طریقہ کار پر عمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور بدھ تک اس عہدے پر رہنے کا اعلان کیا جب پارلیمنٹ ایک نئے صدر کا انتخاب کرے گی۔
بہت سے مبصرین کی رائے میں وہ راجا پکشے کی حکمراں جماعت پیپلز فرنٹ کی حمایت سے صدارتی دوڑ میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
وکرماسنگھے چھ بار ملک کے وزیراعظم رہ چکے ہیں مگر ایک بار بھی اپنی مدت مکمل نہیں کر سکے۔ انھیں بدعنوانی جیسے الزامات کا سامنا رہا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اچھی شہرت کے حامل نہیں ہیں۔
تاہم انھیں ملک چلانے کا تجربہ ہے اور ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھیں ارکان اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد بھی حاصل ہے، جو ملک میں استحکام اور جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں۔
کچھ اور لوگ بھی ہیں جو کامیاب ہو کر اقتدار میں آنے کے دعوے دار ہیں، جن میں سرفہرست قائد حزب اختلاف ساجیتھ پریماداسا اور حکمراں جماعت کے ہی ایک اور رکن پارلیمنٹ دلاس الہاپیروما ہیں۔ ایک جماعت سے دو صدارتی امیدوار ہونے کا مطلب ووٹ کی تقسیم کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے، جس سے وکرماسنگھے کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
سری لنکا میں خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔ ملک کے مرکزی بینک نے بی بی سی کو بتایا کو ان کے پاس اتنا زرمبادلہ نہیں ہے کہ وہ اس ماہ کے آخر میں تیل خرید سکیں۔
ملک کو فوری طور پر ایک ایسے حکمران کی ضرورت ہے جو اپنے قرضوں کے انتہائی ضروری بیل آؤٹ کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے بات چیت کرے۔
کیا مظاہرین کوئی سمجھوتہ کر سکتے ہیں، اور معاشی بحران سے نکلنے کے لیے وکرما سنگھے کو فی الحال قبول کر سکتے ہیں؟ بی بی سی نے جتنے بھی مظاہرین سے گذشتہ ہفتے بات کی ان میں سے ہر ایک نے اس سوال کا نفی میں جواب دیا ہے۔
وکرماسنگھے کی ساکھ اتنی متاثر ہے کہ یہ مظاہرین انھیں اب اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتے۔
یونیورسٹی کی طالبہ انجلی واندوراگالا نے بتایا کہ ’وہ (وکرماسنگھے) یہ کہتے ہوئے اقتدار میں آئے تھے کہ وہ راجا پکشے سمیت سب کا احتساب کریں گے۔ لیکن انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ یہ سوچنا مضحکہ خیز ہے کہ لوگ دوبارہ ان پر بھروسہ کریں گے۔
سنیچر کو احتجاج کی منتظم نزلی حمیم نے اراکین پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ لوگوں کی بات سنیں اور وکرماسنگھے کو صدارت کی دوڑ سے باہر رکھیں۔ انھوں نے خبردار کیا کہ ’اگر آپ رانیل وکرماسنگھے کو اگلے انتخابات میں اس ملک کے صدر کے طور پر حمایت کرنے جارہے ہیں تو پھر ایسے میں عوام آپ کی حمایت نہیں کریں گے اور آپ کو یہ یاد رکھنا چاہیے۔‘
مظاہرے کے منتظمین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر وکرماسنگھے بدھ کو اقتدار حاصل کر لیتے ہیں تو وہ مظاہرے جاری رکھیں گے۔
اس کے لیے ممکنہ طور پر ایک ہی طریقہ یہ ہے کہ وہ معاشی بحران کو حل کرنے کے قابل ہوں، یا کم از کم فیول کی بلاتعطل فراہمی حاصل کر لے۔ لیکن ایسا راتوں رات نہیں ہوگا۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مظاہرے صرف ایک ایسے وقت میں رکاوٹ اور توجہ ہٹائیں گے جب ملک کو گڑھے سے نکالنے کے لیے اتحاد کی ضرورت ہے۔
ایک قانون ساز نے گذشتہ ہفتے ایک میٹنگ میں منتظمین کو بتایا کہ ’جو بھی اقتدار میں آئے آرگالیا موومنٹ کو اسے قبول کرنا ہوگا۔ آپ احتجاج جاری نہیں رکھ سکتے۔‘
لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا احتجاج جاری رکھنے کی کوئی منطق بنتی ہے۔
آراگالیا تحریک کی طاقت اس کی بے قائدانہ احتجاج اور اس میں شامل عام شہری رہے ہیں۔ یہ خود بخود بڑے پیمانے پر شروع ہونے والی بغاوتوں کو بہتر بنا دیتی ہے لیکن ایسی تحریک کے خاتمے کی پیشن گوئی یا اسے قابو کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
گذشتہ چند مہینوں میں پُرامن مارچ فوج اور پولیس کے ساتھ انتشار انگیز جھڑپوں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ صرف گذشتہ ہفتے کے دوران مظاہرین نے صدر اور وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہوں پر دھاوا بول دیا، صدارتی سیکریٹریٹ کی عمارت پر قبضہ کر لیا اور پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
اس آرگالیا تحریک کو اب کچھ حلقوں کی جانب سے ردعمل کا سامنا ہے۔
بار ایسوسی ایشن نے گذشتہ ہفتے مظاہرین سے وزیر اعظم کا دفتر خالی کرنے کی التجا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’لاقانونیت یا انارکی کی صورتحال‘ کی حمایت نہیں کرے گی۔ ایک ایمبولنس سروس نے شکایت کی کہ افراتفری کے دوران ان کی گاڑیوں پر حملہ کیا گیا، جب وہ مریضوں کو ہسپتال پہنچانے کے لیے لے کر جا رہے تھے۔
کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے سری لنکا کے اداروں کے تقدس کو پامال کیا ہے اور ان سرکاری عمارتوں میں زبردستی داخل ہوئے جو ریاستی طاقت کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔
مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کے طور پر کچھ کاروباری اداروں نے انھیں کچھ بہت ضروری مالی اعانت فراہم کی ہے۔ لیکن وہ اس پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں اگر احتجاج طویل ہو جائے اور معیشت کے عدم استحکام میں اضافہ ہو۔
بی بی سی کے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ نجی طور پر، مظاہرے کے منتظمین کو مسلسل خدشہ ہے کہ یہ تحریک مزاحمتی عناصر کی وجہ سے تشدد میں بدل سکتی ہے۔
حالیہ مہینوں میں مظاہرین نے ارکان پارلیمنٹ کے گھروں کے ساتھ ساتھ وکرماسنگھے کی نجی رہائش گاہ اور راجا پکشے کے آبائی گھر کو نذر آتش کیا ہے۔
سیکیورٹی فورسز پر مظاہروں کو روکنے کی کوششوں میں بربریت کا الزام عائد کیا جاتا ہے، جس میں مظاہرین پر گولی چلانا، انھیں بُری طرح زدوکوب کرنا اور بھاری مقدار میں آنسو گیس پھینکنا شامل ہے۔ وہ اب تک سینکڑوں مظاہرین کو زخمی کر چکے ہیں۔
منتظمین اب یہ اُمید کر رہے ہیں کہ جب وہ دباؤ ڈالیں گے تو اس سلسلے میں کمی واقع ہو گی۔
انھوں نے زیادہ تر عمارتیں جن پر وہ قابض تھے خالی کر دی ہیں، اور اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ وہ صرف پُرامن مظاہروں پر توجہ مرکوز کریں گے۔
بی بی سی کے پوچھے جانے پر کہ کیا ان کے خیال میں احتجاجی تحریک بہت آگے بڑھ گئی ہے، اس احتجاج کے ایک منتظم فادر جیونتھا پیرس نے کہا کہ ’ہم صرف ایک احتجاجی ریلی چاہتے تھے۔ جو ہم نے منعقد کی تھی۔ باقی اس پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں تھا۔‘
ان کے مطابق ’لوگ مایوس ہیں، وہ بدامنی کا شکار ہیں۔ رانیل اس کا براہ راست ذمہ دار ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ غیر پرتشدد مظاہروں کی مختلف شکلوں کا تعاقب کریں گے جیسے مارچ اور ہڑتالوں کے ساتھ ساتھ سرکاری عمارتوں پر قبضہ۔ انھوں نے کہا کہ ’صرف بات یہ ہے کہ ہم عوامی املاک کو کبھی نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔ ہم نہیں چاہتے کہ کسی کو نقصان پہنچے۔‘
لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں سری لنکا کے سامنے آنے والے مشکل حالات کون سے ہیں، وہ پہلے ہی بہت کچھ حاصل کر چکے ہیں۔
اس بغاوت نے پہلی بار تین بڑی برادریوں۔۔۔ سنہالہ، تمل اور مسلمانوں کو ایک مشترکہ مقصد کے لیے اکٹھا کیا ہے۔ مرد، خواتین، بچے، بُدھ بھکشو، مسیحی، پادری اور راہبہ اور مسلمان تاجر سبھی اس میں شامل ہو گئے ہیں۔
احتجاجی رہنما وساکا جیاویرا نے کہا کہ ’اپنی نوجوان نسلوں کو ہم نے سکھایا ہے کہ وہ پیچھے نہ ہٹیں، آگے بڑھیں گے، وہ تمام مطالبات مانیں گے۔‘
راجا پکشے کے اقتدار کے کئی برس بعد سری لنکا کے عوام نے ناقابل تصور کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ انھوں نے اپنے ملک کو راجا پکشے خاندان کی مضبوط گرفت سے باہر نکالا۔
سری لنکا کو راجا پکشے خاندان کی آہنی گرفت سے باہر نکالنے کا ناقابل تصور کام عوامی غصے نے کیا ہے۔
یہ تاریخ میں ایک ایسے لمحے کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب عام لوگوں کو اپنے ملک کو آگے لے جانے سے متعلق ایک بڑا مطالبہ کرنے کی ہمت ہوئی تھی۔ سری لنکا کے سیاستدان اب جانتے ہیں کہ اگر وہ کارکردگی نہیں دکھا سکے تو پھر آگے چل کر انھیں کس قسم کے حالات سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔