تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو رقم کی پیشکش کی گئی ہے، فواد چوہدری کا دعویٰ
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو رقم کی پیشکش کی گئی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے کہا کہ 22 تاریخ کو پنجاب میں ہماری حکومت بن جائے گی اور 23 تاریخ کو ہم رانا ثنا اللہ کے پنجاب میں داخلے پر پابندی لگاسکتے ہیں۔ یہی حال عطا اللہ تارڑ کا بھی ہے، رانا ثنا اللہ اور عطا تارڑ جیسے لوگ پنجاب کے لیے ناسور ہیں۔
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کی پوری زندگی میں 2 ہی معاملات چل رہے ہیں یا تو وہ وزیر ہوتے ہیں یا ہھر جیل میں مار کھاتے ہیں، انہیں پہلے بھی کہا تھا کہ وہ انسان کے بچوں کی طرح بات کیا کریں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ جو مسٹر ایکس اور وائی تھے وہ زیڈ ہوگئے یعنی ختم ہوگئے، ہم نے حکومت کو چند دن کی مہلت دی ہے، وہ خود فیصلہ کرلے کہ عام انتخابات کی طرف کب جانا ہے اور الیکشن کمیشن و دیگر انتخابی اصلاحات کب کرنی ہیں۔
رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہمارا کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں، طاقتور حلقوں کو بھی ہمارے ایجنڈے کا واضح طور پر پتہ ہے، وہ دن گزر گئے جب بند کمروں میں 4 سے 6 لوگ فیصلے کرتے تھے۔ اب فیصلے عوام کریں گے، تحریک انصاف ہر ایجنڈے کی عوام کی منظوری کے بعد اس پر عمل کرائے گی۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو جانا ہوگا، چیف الیکشن کمشنر کے پاس بھی چند ہی روز ہیں، وہ کود فیصلہ کرلیں کہ وہ خود جائیں گے یا انہیں بھیجنے کے لئے کوئی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ وہ خود چلے جائیں اور سیاسی جماعتوں کو موقع دیں کہ نئے الیکشن کمیشن کی تشکیل عمل میں لاسکیں۔
رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل تحریک انصاف کی مرضی سے ہو، ہمارا موقف ہے کہ ایسا الیکشن کمیشن تشکیل دیا جانا چاہیے جس پر تمام سیاسی قوتوں کو اعتبار ہو۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ شہباز شریف عام انتخابات کی تاریخ دیں، اس کے بعد ہم پارلیمنٹ میں جاکر یا اس کے باہر ہم بات چیت کرنے کو تیار ہیں، الیکشن کا لائحہ عمل سیاسی جماعتوں کو طے کرنا ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ جمہوریت کی اپنی روایات ہوتی ہیں، مریم نواز نے شکست قبول کی ہے، ہم نے وزارت اعلیٰ کے لیے چوہدری پرویز الہیٰ کے نام کی توثیق کردی ہے، اس صورت حال میں حمزہ شہباز کو سب سے پہلے استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔
حکومت کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ شہباز شریف کی حکومت وینٹی لیٹر پر ہے، نیوٹرل کے بغیر یہ ایک ہفتہ بھی حکومت نہیں کرسکتے، صدر مملکت کو ملک کی سب سے بڑی جماعت اگر درخواست کردے کہ شہباز شریف کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کو کہا جائے تو ان کے لئے مشکل کھڑی ہوجائے گی۔ ان کے پاس 172 لوگ نہیں، ان کے پاس 162 سے زائد لوگ نہیں۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ راجا ریاض ڈمی اپوزیشن لیڈر ہیں۔ ہم یہ حکومت کل گرانے چاہیں تو گرا سکتے ہیں۔ ہمیں عبوری حکومت 3 ماہ سے زیادہ ایک دن کے لیے بھی منظور نہیں، معیشت ٹھیک کرنا عبوری حکومت کا کام نہیں، یہ کام منتخب حکومت کا ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) کی سیاسی لاش پر کھڑے ہوکر سیاسی دعوے کررہی ہے، آصف علی زرداری کبھی ذوالققار علی بھٹو کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے تو مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کیسے کھڑے ہوں گے۔وہ یہ چاہتے ہیں کہ شہباز شریف کی حکومت ختم ہوتی ہے تو ہوجائے لیکن سندھ میں ہماری حکومت ختم نہیں ہونی چاہیے.
پی ٹی آئی کے ارکان سے حکومتی رابطوں سے متعلق فواد چوہدری نے الزام لگایا کہ ہمیں اطلاعات ملی ہیں کہ کم از کم 2 ایم پی ایز سے رابطہ کیا گیا ہے اور انہیں بھاری رقم کی پیشکش ہوئی ہے لیکن انہوں نے رقم ٹھکرادی ہے۔