گوادر کے نوجوانوں کیلئے اُمید کی کرن بننے والا سی پیک کا منصوبہ

0 164

سی پیک عمومی طور پر ایک تجارتی راہداری تصور کیا جاتا ہے لیکن جوں جوں اس میں شامل منصوبے پایۂ تکمیل تک پہنچ رہے ہیں اس کی افادیت سے عام آدمی اور خصوصاً نوجوان روشناس ہورہے ہیں۔

حال ہی میں گوادر میں سی پیک کے تحت مکمل ہونے والا منصوبہ پاک چین ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ ہے جو گوادر میں نوجوانوں میں روشن مستقبل کی اُمید پیدا کر رہا ہے۔ ناصرف طلبہ بلکہ 50 کے قریب طالبات بھی اس منصوبے کے پہلے پاس آؤٹ ہونیوالے ہُنرمندوں میں شامل ہوں گی۔

ایسی ہی ایک طالبہ جماعتی حبیب اللہ ہیں جو کہ پاک چائنہ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ میں اس وقت آفس مینجمنٹ کا ششماہی کورس مکمل کرنے جارہی ہیں۔

جماعتی حبیب اللہ گوادر شہر کے علاقے نیا آباد میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ مشترکہ رہائش رکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں اُن کے خاندان میں اُسکے بڑے بھائی نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی لیکن محدود وسائل کے باعث وہ آگے نہ پڑھ سکے۔

جماعتی حبیب اللہ اپنے خاندان کی واحد لڑکی ہیں جو تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’میں صبح کے اوقات میں گرلز ڈگری کالج گوادر میں فرسٹ ایئر میں پڑھ رہی ہوں اور شام کو پاک چائنہ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ میں آفس مینجمنٹ کا ششماہی کورس کررہی ہوں۔

جماعتی حبیب اللہ نے بتایا کہ ‘میں چاہتی تھی کہ میں پڑھ کر ڈاکٹر بنوں اور غریب لوگوں کی خدمت اور علاج کرسکوں، لیکن گوادر میں میڈیکل کالج نہیں تھا اور غربت کی وجہ سے والدین کے پاس دوسرے شہروں میں جانے کیلئے اخراجات اُٹھانے کی گنجائش نہیں تھی، رواں سال کے ابتداء میں ووکیشنل انسٹیٹیوٹ میں ٹیسٹ اور انٹرویو میں پاس ہوئی اور داخلے کا موقع ملا، جب میں کمپیوٹر سائنس میں اِن ہوگئی تو دیکھا کہ یہ الگ دُنیا ہے اور یہاں سرکاری نوکری یا پرائیوٹ اداروں میں مجھے بہترین مواقع مُیسر آئیں گے اس لئے میں دل لگا کر پڑ رہی ہوں’۔

وہ کہتی ہیں کہ ’پاک چائنہ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ گوادر کے نوجوانوں کیلئے اُمید کی کرن اور کسی نعمت سے کم نہیں، مجھے اپنے مستقبل کی بہت فکر رہتی تھی، میرے پاس کوئی ایسا ہُنر نہیں تھا جس سے میں اپنے لئے کوئی روزگار کا بندوبست کرسکتی، لیکن اب میں پُرامید ہوں کہ جلد مجھے باعزت روزگار مل جائے گا۔

جماعتی حبیب اللہ کے والد عمر بڑھنے کے باعث بینائی سے محروم اور ٹانگوں سے معذور ہوچکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں اپنی بیٹی پر فخر ہے اور ہر والد کو اپنی بیٹی کو آگے بڑھنے کیلئے حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔

حبیب اللہ کہتے ہیں کہ ان کی بیٹی بہت باصلاحیت ہے اور میں خوش ہوں کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کیلئے محنت کر رہی ہے، مجھے یقین ہے کہ میری بیٹی ایک دن میرا اور میرے علاقے کا نام روشن کرے گی۔

جماعتی حبیب اللہ کے دیگر بھائی محنت مزدوری کرکے اپنے خاندان کی کفالت کررہے ہیں۔

ان کے والد کہتے ہیں کہ کم وسائل ہونے کے باعث میں اپنے بیٹوں کو تو زیادہ تعلیم نہیں دلوا سکا لیکن میری بیٹی کے پاس موقع ہے، اس لئے میں اسے اب پاک چائنہ ووکیشنل سینٹر میں کورس مکمل کرکے تعلیم کے علاوہ ہنر بھی سیکھنے میں مدد کررہا ہوں۔

پاک چائنہ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ گوادر کے نوجوانوں کیلئے تحفہ ہے، یہ صرف کسی ایک طالبہ کی کہانی نہیں بلکہ گوادر کے سینکڑوں نوجوانوں کیلئے یہ ادارہ روشن مستقبل کا ضامن ہے۔

گوادر میں 6 ایکڑ اراضی پر پاک چائنہ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ کا منصوبہ گزشتہ برس مکمل ہوا تھا جس پر 2.3 ارب روپے کی لاگت آئی تھی۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر سہیل اصغر کے مطابق اس منصوبے میں 92 فیصد اخراجات چین کی جانب سے دی گئی گرانٹ جبکہ 8 فیصد حکومت پاکستان نے برداشت کئے، اس انسٹیٹیوٹ میں مختلف شعبوں میں ششماہی کورسز کروائے جارہے ہیں، تاکہ گوادر کے نوجوانوں کو یہاں پر ہونیوالے ترقیاتی منصوبوں میں روزگار کے مواقع فراہم کئے جاسکیں، یہ گوادر کے نوجوانوں کیلئے ایک تحفہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مقامی نوجوانوں کو انسٹیٹیوٹ میں کورسز بغیر کسی فیس کے کروائے جارہے ہیں۔ سہیل اصغر کہتے ہیں کہ اس وقت اس ادارے میں 130 طلباء مختلف کورسز کررہے ہیں، جن میں کمپیوٹر آفس مینجمنٹ، کارگو ہینڈلنگ، چائنیز لینگویج اور دیگر شامل ہیں۔

پاک چائنہ انسٹیٹیوٹ میں ناصرف طلبہ بلکہ طالبات کی بھی بڑی تعداد زیر تعلیم ہیں۔ ’ادارے میں 130 طلبہ میں سے 45 طالبات ہیں اور ان میں 98 فیصد تعداد گوادر کے مقامی طلبہ کی ہے۔

پاک چائنہ انسٹیٹیوٹ سے فارغ التحصیل طلبہ کیلئے مواقع کیا ہیں؟

سہیل اصغر پُرامید ہیں کہ مستقبل میں ششماہی کورسز کو توسیع دیتے ہوئے انہیں دو اور 3 سالہ ڈپلومہ کورسز کا درجہ دیا جائے گا، جس سے یہاں کے مقامی نوجوان گوادر فری زون اور گوادر پورٹ میں ملازمت کے قابل ہوسکیں گے جبکہ ڈپلومہ کے دوران چین میں بھی کام کرنے کے مواقع میسر آئیں گے، جہاں طلبہ 6 ماہ کی انٹرن شپ بھی کریں گے۔

طالبہ جماعتی حبیب اللہ کا خیال ہے کہ آج کے انسان کو فارمل ایجوکیشن سے زیادہ فنی تعلیم کی طرف جانا چاہئے، کیونکہ فنی علم ہزاروں اور لاکھوں دولت یا دولت مندوں سے امیر تر بنا دیتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس ششماہی ووکیشنل کورس میں، میں اس قابل بن جاؤں گی کہ کسی بھی سرکاری یا پرائیوٹ کمپنی یا ادارے میں بحیثیتِ آفس مینجمنٹ انچارج یا منیجر کے طور پر کام کر سکوں۔ میں پُرامید ہوں کہ جلد مجھے باعزت روزگار مل جائے گا۔

جماعتی حبیب اللہ نے دیگر لوگوں کو بھی مشورہ دیا کہ گوادر اور گِرد و نواح کے طلبہ و طالبات پاک چائنہ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ سے فنی تعلیم حاصل کرکے بھرپور فائدہ اُٹھائیں۔

اکاؤنٹنٹس کا ششماہی کورس کرنیوالے سماعیل علی کے مطابق ’پاک چائنہ انسٹیٹیوٹ میں جو تربیت دی جارہی ہے اس سے ہم کسی بھی نجی یا سرکاری ادارے میں خدمات سر انجام دے سکتے ہیں، یہاں ملک کے دیگر بڑے اداروں کے معیار کے مطابق ہماری تربیت کی جارہی ہے اور ہمیں ان مواقع سے خود بھی فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

پاک چائنہ انسٹیٹیوٹ میں زیر تعلیم ظہیر مراد کہتے ہیں کہ ہم ان کورسز کو اپنے مستقبل کیلئے ایک بہترین موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے ہم مواقع کی تلاش میں رہتے تھے، اپنے مستقبل کی فکر ہوتی تھی لیکن اب میری ساری توجہ اس کورس پر ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ میرے لئے ایک سنہرا موقع ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.