یونیورسٹی بلوچستان کے انتظامیہ نے طاقت کے زور پر کتب میلہ منعقد نہیں کرنے دیا۔بی۔ایس۔او

0 205

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن  جامعہ بلوچستان کوئٹہ میں دو روزہ کتابوں کا اسٹال منعقد کرنے کیلئے انتظامیہ کو پیشگی درخواست دے کر باقائدہ 3 اور 4 اگست کی اجازت حاصل کی گئی۔

تنظیم نے جب اعلامیہ جاری کیا تو حکومت میں شامل ایک جماعت اور اسکے طلبہ وِنگ نے مداخلت کرکہ یونیورسٹی انتظامیہ پر دباؤ ڈالا اور انتظامیہ کے ساتھ ملکر بی ایس او کی علمی سرگرمی کو سبوتاژ کرنے کی سر توڑ کوششیں شروع کیں۔

3 اگست کو جب بی ایس او کے ساتھی شیڈول کے مطابق اسٹال لگانے پہنچے تو انتظامیہ نے پولیس طلب کرکہ طلباء کو ہراساں کیا۔ انہیں بُک اسٹال لگانے نہیں چھوڑا اور طلباء پر فورس استعمال کرتے ہوئے انہیں انکے جائز حق سے محروم کر دیا۔

حالانکہ اسٹال پر لائی گئی تمام کتابیں کوئی پابند شدہ نہیں تھیں بلکہ وہ کتابیں تھیں جو کوئٹہ کی تمام کتب شاپس میں دستیاب ہیں اور کراچی و لاہور کے پبلشرز کے چھاپے ہوئے ہیں۔ مگر اس کے باوجود ان کتابوں کو یونیورسٹی ایڈمنسٹریشن نے جامعہ کے اندر آنے نہیں دیا۔

بی ایس او کے نڈر ساتھیوں نے دلبرداشتہ یا مایوس ہونے کے بجائے حسبِ روایت سیاسی مزاحمت کی راہ اختیار کرکہ جامعہ کے گیٹ کے سامنے سڑک پر کتابیں رکھ کر انوکھا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ گیٹ کے سامنے بُک اسٹال منعقد کرکہ علمی و انقلابی لٹریچر کی پرچار کی۔

دوسرے روز بھی اسی طرح انتظامیہ نے کتابیں جامعہ کے اندر لے جانے سے طلباء کو روک دیا تو کامریڈز نے ایک بار پھر گیٹ پر ہی کتب میلہ سجا دیا۔ جامعہ کے طلباء، اساتذہ اور علم دوست عوام نے بڑھ چڑھ کر اسٹال سے کتابیں لیں اور بی ایس او کی مزاحمتی علمی سرگرمی کو سراہا۔

بلوچ قومی سیاست کی حقیقت یہی ہیکہ ریاست نے حقیقی سیاسی تنظیموں یا جماعتوں کے آگے ہمیشہ رکاوٹوں کے پہاڑ کھڑے کیئے ہیں۔ بالخصوص بی ایس او کو تاسیس 1967 سے لیکر آج دن تک پے در پے حملوں اور رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے۔ جبکہ بی ایس او ہیکہ بِنا رکے بِنا جھکے بِنا ڈگمگائے اَلم مزاحمت بلند کرتے ہوئے کتاب و قلم، علم و شعور اور قوم کی لاج رکھ رہی ہے۔

تعلیمی ادارے کے اندر کتب میلہ لگانا، کتابیں لیجانا اور علمی سرگرمی کرنا ممنوعہ ہو، یہ شاید مہذب معاشروں کیلئے تعجب کی بات ہو مگر بلوچستان کے اندر دھرتی کے حقیقی وارثوں کیلئے ریاست کی یہی پالیسی ہے۔
ہاں، البتہ آپ ریاستی آلہ کار ہیں، اس کے کاسہ لیس ہیں یا پروردہ جماعتوں کے پاکٹ دم چھلہ ہیں تو آپ سے کوئی خطرہ کوئی ایشو نہیں ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ آپ اسکے سہولت کار کے طور پر آسانیاں پیدا کر رہے ہیں۔ لیکن اگر آپ خودمختار ہیں، بلوچ و بلوچستان کے وفادار ہیں اور شعور و آگہی کی سیاست کرتے ہیں تو آپ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

جامعہ بلوچستان کے اندر رنگ بہ رنگی دم چھلہ پاکٹس موجود ہیں جو آئے روز کوئی نہ کوئی سرگرمی کرتے رہتے ہیں۔ جیسے ایڈمنسٹریشن کو بلیک میل کرکہ بھتہ وصول کرنا، مِس یا کنٹین کا ٹھیکہ حاصل کرنا، ہاسٹل کے کمروں پر قبضہ کرنا، فی میل اسٹوڈنٹس کو ہراساں کرنا، جامعہ کے اندر بدمعاشی و ڈنڈا ماری کرنا وغیرہ۔۔۔ مگر بی ایس او جب بھی کسی پروگرام کیلئے اعلامیہ جاری کرتی ہے تو سب کے تن من میں آگ بڑھک اٹھتی ہے اور بی ایس او کو علمی و سیاسی سرگرمی سے جبراً روکا جاتا ہے۔

دو روزہ کتب میلہ کے دوران بی ایس او کی مرکزی آرگن "بامسار” کو طلبہ کے ہاتھوں میں دیکھ کر جامعہ کے گیٹ پر تعینات پولیس اہلکار انہیں روک رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ؛ یہ کتاب اندر لے جانا منع ہے۔ جب ساتھیوں نے وجہ دریافت کی تو کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے بس یہی بات دہراتے رہے کہ بی ایس او کا کتاب ہے اسے جامعہ کے اندر چھوڑنے سے ایڈمنسٹریشن نے منع کیا ہے۔

سامراجی ریاست، اسکے اداروں اور آلہ کاروں کیلئے تو بی ایس او ہمیشہ سے حقیقی تھریٹ کی علامت رہی ہے۔ سامراج کو انقلابی تنظیم سے خوف آ رہا ہے، یہ باعث مسرت اور قابل فخر بات ہے۔ اس سے بی ایس او کے کارکنان کبھی پریشان یا مایوس نہیں ہونگے بلکہ وہ اور جوش و خروش کے ساتھ مقدس تنظیم کے دفاع میں ڈٹ جائیں گے اور نوآبادکار کو پریشان کرنے والی لٹریچر کے پھیلاؤ کو مزید تیز تر کرینگے۔

جس طرح دو روز تک کتابیں جامعہ کے اندر نہیں چھوڑی گئیں تو انہیں سڑک پر سجا کر کتابوں کی توقیر بڑھائی گئی اسی طرح آئیندہ بھی سڑک و چوک چوراہوں کو انقلابی تعلیم و جدوجہد کا سنگر بنایا جائے گا۔ الماریوں کے اندر کتابوں کو سڑنے دینے کے بجائے انکو زینتِ بازار بنا کر کتابوں کی سر بلندی کو محورِ جدوجہد بنایا جائے گا۔

بلوچ دشمن عناصر جو بلوچ کے تعلیم حاصل کرنے، سیاسی شعور حاصل کرنے اور سیاسی سرگرمی سے خوف کھاتے ہیں، ایسی تمام سرگرمیوں کو مزید تیز تر کرکہ انہیں بے سکون و بےآرام کیا جائے گا۔ مگر علم، شعور، مزاحمت و انقلاب کا راستہ بی ایس او کبھی نہیں چھوڑے گی۔

بی ایس او کے بہادر کامریڈز کو کامیاب علمی سرگرمی منعقد کرنے پر میں مبارکباد پیش کرتا ہوں اور انکی انقلابی جرات کو سرخ سلام پیش کرتا ہوں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.