8 اگست 2016ء کوئٹہ سانحہ کے وکلاء بے گناہ اور معصوم تھے، رحیم زیارت وال
کوئٹہ 8 اگست 2016ء کوئٹہ سانحہ میں جاں بحق وکلاء بے گناہ معصوم تھے، جنرل مشرف دور میں آئین کی بحالی، عدلیہ کی آزادی کے ملک گیر تحریک میں وکلاء کے کرداد کو سراہتے ہیں، کوئٹہ کے وحشت ناک،خونریز واقعہ میں جاں بحق ہونیوالوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، خان شہید کی جدوجہدانگریزی استعمار کو برصغیر اور پشتونخوا وطن سے نکالنے اور محکوم اقوام کو آزادی دلانے کیلئے تھی،23مارچ1940ء کی قرارداد کی روح پر عملدرآمد کیا جاتا اور ملک میں آئین، جمہوریت،ون مین ون ووٹ کی بنیاد پرمنتخب خودمختار پارلیمنٹ اور ملک کو قوموں کی برابری کا حقیقی فیڈریشن اعلان کرتے تو نہ ملک ٹوٹتا اور نہ باقی ملک ان بحرانوں سے دوچار ہوتا، ملکی آئین ملک کا سب سے اہم دستاویز ہے اْس پر عملدرآمد کیئے بغیر کوئی چارہ نہیں، ملک آج معاشی دیوالیہ پن سے دوچار ہے، ملک کے تمام سیاسی جمہوری وطن دوست پارٹیوں اور سیاسی جمہوری قوتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ جمہورکی حکمرانی کو تسلیم کرنے میں مضمر ہے۔ ملکی آئین وقانون کی حکمرانی،پارلیمنٹ کی بالادستی، قوموں کی برابری، اْن کے معدنی وسائل پر قوموں کا کنٹرول اور مادری زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینا ملک کے اقوام وعوام کا مطالبہ ہے، جنوبی پشتونخوا کے صوبائی حلقوں کو شعوری سازش کے تحت کم کرنا قابل قبول نہیں، ہرنائی خوست کے المناک واقعات پشتونوں کی نسل کشی کرنے کے ناروا عمل کو ثابت کرتی ہے۔ علی وزیر کی دو سال سے غیر قانونی اور ناروا مقدمات کے ذریعے قید وبند پشتون قومی تحریک کے خلاف جاری سازشوں کی کڑی ہے۔ ملک کے بحرانوں کا نجات پی ڈی ایم کے 26نکاتی اعلامیہ پر عملدرآمد میں ہے، پشتون افغان غیورملت کو درپیش اذیت ناک صورتحال سے نجات بنوں جرگہ کے اعلامیہ میں مضمر ہے۔ حالیہ بارشوں اور سیلابوں کے باعث جنوبی پشتونخوا کے تمام اضلاع کو آفت زدہ قرار دینا اور لوگوں کے نقصانات کا ازالہ کرنا ضروری ہے۔ افغانستان میں نمائندہ لویا جرگہ کا انعقاد اور ان کے فیصلوں کی روشنی میں جہانی اصولوں کو اپنانے اور اْن کی روشنی میں سیاسی جمہوری اقدامات ضروری ہیں۔ ان خیالات کااظہار پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین عبدالرحیم زیارتوال،پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زونل آرگنائزر سیف اللہ خان، پارٹی کے صوبائی سینئر نائب صدر محمد عیسیٰ روشان، بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر مجید خان کاکڑ، پشتونخوا لائرز فورم کے سیکرٹری حبیب اللہ ناصر، عطاء کاکڑ ایڈووکیٹ، ممتاز شاعرہ آرزوزیارتوال،پشتونخوا ایس او سینئر ڈپٹی آرگنائزر یار محمد بریال، اسفند یار کلیوال، قربان ننگیال نے پشتونخوا ایس او کے زیر اہتمام 8اگست 2016ء کے سانحہ سول ہسپتال کے وکلاء کی چھٹی برسی کے عنوان کے تحت پریس کلب کوئٹہ میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس کے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض اسفند یار کاکڑ نے سرانجام دیئے جبکہ تلاوت کلام پاک کی سعادت زبیر خلجی نے حاصل کی۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین عبدالرحیم زیارتوال نے 8اگست 2016ء کے المناک سانحہ میں جاں بحق ہونیوالوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان عظیم وکلاء کے باعث جو خلا پیدا ہوا ہے وہ مدتوں بعد بھی پْر نہیں ہوسکے گا۔ وکلاء برادری ہمیشہ ملک میں حقیقی جمہوری تحریکوں کا ساتھ دیتے رہے ہیں او ر بالخصوص مشرف دور میں عدلیہ کی آزادی کیلئے تاریخ ساز تحریک چلا کر جمہوری تحریک میں اہم رول ادا کیا۔ انہو ں نے کہا کہ ہماری تحریک نے خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کے دور سے میڈیا کی آزادی کیلئے تاریخی جدوجہد کی ہے لیکن یہاں آج بھی میڈیا کے نمائندے موجود نہیں جو قابل افسوس اور قابل گرفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی تحریک ملک کے قیام سے بہت پہلے انگریزی استعمار کے خلاف تھی جو محکوم قوموں کو آزادی اور ترقی دلانے کیلئے شروع ہوئی تھی اور خان شہید سمیت دوسرے اکابرین کی جدوجہد کے نتیجے میں ہی انگریز کو اس سرزمین سے جانا پڑا لیکن ملک کے قیام کے بعد اقوام وعوام کو حقیقی آزادی میسر نہیں ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملکی حکمران 23 مارچ 1940ء کی قراد داد کی روح پر عملدرآمد کرتے تو بہترین پاکستان وجود میں آتا لیکن اْس پر عملدرآمد سے انکار نے ملک کو بربادی کی راہ پر گامزن کیا اور نتیجے میں بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا۔ اور اس کے بعد جو دانش خورغلط نظریات پیش کرکے اقوام وعوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے رہے اْس کا نتیجہ بھی بربادی کے مترادف تھا۔انہوں نے کہا کہ ملکی آئین پر عملدرآمد ناگزیر ہے اور آئین کے تحت تشکیل شدہ ملکی ادارے کو آئینی حدود کی پابندی لازمی ہے ملک میں قوموں کی برابری،ان کی زبان، ثقافت،تاریخ اور جغرافیہ اور ان کی تہذیبی تمدنی اقدار کا احترام کرنا ہوگا۔ ملکی آئین ہی ملک کا اہم ترین دستاویز ہے اور اس پر عملدرآمد کئے بغیر کوئی چارہ کار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی پہلی اور اہم ستون مقننہ ہے مققنہ کی آزادی،پارلیمنٹ کی خودمختاری اور ملک کے تمام ادارے جب تک آئین کے ماتحت نہیں ہونگے ملک کو ترقی اور خوشحالی کی جانب لیجانا ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک معاشی دیوالیہ پن،آئینی، سیاسی اور معاشرتی بحرانوں میں گر چکا ہے، ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے ضروری ہے کہ قومی ڈائیلاگ ہو اور قومی ڈائیلاگ میں ملک کے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوامیپ او ران کے قائد محترم محمود خان اچکزئی کے واضح موقف نے سالہا سال سے ملک کے حکمرانوں کو حقیقی صورتحال سے آگاہ کرتے رہے اور ہمارے اس واضح اور سچے موقف کے بدلے میں ہم پر حملے ہوتے رہے۔ اور ملک کے حکمران حقائق کو تسلیم کرنے کی بجائے ہمیشہ ملک کے اقوام وعوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے رہے جس کے باعث آج ملک سنگین بحرانوں میں مبتلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے اس ملک کو چلانے اور ترقی کی راستے پر گامزن کرنے کی خواہش موجود ہو تو یہ ممکن ہے اور برسرزمین حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا اور سینٹ کووہ تمام اختیارات دینے ہونگے جس سے ملک کے قومی اکائیوں کا اطمینان ہوعقل سلیم کا تقاضا ہے کہ ملک میں حقیقی جمہوریت، شفاف، غیر جانبدارانہ انتخابات کے اصول کو اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خودساختہ پارٹیوں اور خودساختہ نمائندوں سے ملک نہیں چلایا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ہر ادارے کو آئینی حلف کاپابند بنانا ہوگا۔ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، ملک کو قوموں کی برابری کا حقیقی فیڈریشن بنانا ہوگا اور قومی وحدتوں کے حقوق تسلیم کرنے ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پشتونوں کی وطن اور سرزمین کو اب بھی مختلف ٹکڑوں میں تقسیم رکھا گیا ہے ان کی قومی وحدت، قومی تشخص کی بحالی اور قومی خود مختیار صوبے کا قیام ہمارا انسانی، اسلامی اور آئینی حق ہے، پشتونخوامیپ پشتونخوا وطن کے تمام قومی مفادات کی محافظ پارٹی کی حیثیت سے اپنے وطن اور عوام کے حقوق سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہوگی اور نہ کسی کو قومی مفادات پر سودا بازی کرنے دیگی۔ انہوں نے کہا کہ آواران کی ایک لاکھ 21ہزار آبادی پر مکمل صوبائی سیٹ اور ضلع موسیٰ خیل کی ایک لاکھ 67ہزار آبادی کو دوسرے ضلع میں شامل کرکے ان کی سیٹ چھیننے والی اصول کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قلعہ سیف اللہ میں لیویز رسالدار وسپاہیوں کی شہادت، سنجاوی کے لال کٹائی کے لیویز کا واقعہ، پشین، چمن، لورالائی کے تخریبی واقعات اور وزیرستان میں خڑ کمر سمیت مختلف واقعات اور ملی شہید عثمان لالا کی شہادت کے واقعہ تک اور اب ہرنائی خوست کے المناک واقعہ میں خالقداد بابڑ کی موت اور دیگر کو بلاجواز زخمی کرنے کا المناک واقعہ درحقیقت پشتونوں کی جاری نسل کشی کے سوا کچھ نہیں اور ان پشتون دشمن سازشوں کیخلاف بھرپور آواز بلند کرنا تمام سیاسی جمہوری پارٹیوں کا فریضہ ہے اور ہم بحیثیت پارٹی اس اہم قومی ذمہ داری کو پورا کرنے کیلئے عملی طور پر میدا ن میں ہونگے۔ حالانکہ حکمران اور ان کے ادارے پشتونوں کی نسل کشی کرتے ہوئے انہیں فریاد اور احتجاج کا حق تک نہیں دیتے۔ پشتونخوامیپ ہرنائی کے واقعہ کے خلاف جاری احتجاج کا بھرپور ساتھ دیگی۔ انہوں نے کہا کہ 8اگست 2016ء کے وکلاء کے سانحہ کی تحقیقات میں ملوث عناصر کی نشاندہی ہوچکی ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب کی سربراہی میں بننے والی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پر عملدرآمد ضروری ہے لیکن کوئی حکومت ان پر عملدرآمد کیلئے تیار نہیں جو قابل مذمت اور قابل گرفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی بحرانوں سے نجات پی ڈی ایم کے 26 نکات پر عملدرآمد میں ہیں ملک کے حکمرانوں نے اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پشتونخوا وطن کے عوام کو درپیش اذیت ناک صورتحال سے نجات بنوں جرگے کے تاریخی اعلامیہ کی روشنی میں متحد ومنظم ہوکر قومی اتفاق رائے کے ساتھ جدوجہد کرنے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علی وزیر کی غیر قانونی اور نارواجھوٹے مقدمات کے ذریعے اْن کی قید وبند قابل مذمت ہے ملک کو دو قانون کے تحت نہیں چلایا جاسکتا۔ ایک طرف پنجاب میں لوگ احتجا ج کرتے ہوئے سرکاری ونجی املاک کی تباہی اور پولیس اہلکاروں کی موت تک کے واقعات میں ملوث ہوتے ہیں اور انہیں مذاکرات کے ذریعے رہا کیا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف علی وزیر کو ناروا اور جھوٹے مقدمات میں پابند سلاسل رکھ کر پشتونوں کی قیادت کے خلاف سازشوں کو ختم نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں افغان روایات کے تحت افغان جرگہ کا انعقاد افغانستان کے مسئلے کا حل ہوگا۔ افغان لویا جرگہ خود یہ طے کرے کہ ملک میں کس طرز کی حکمرانی ہوگی اور تمام افغانوں پر یہ فرض ہے کہ وہ بین الاقوامی رواج وروایات اور انتخابی طریقہ کار کے تحت افغانستان کو عوام کی منتخب حکومت دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ افغانستان میں ہمسایوں خاص کر پاکستان اور ایران کی مداخلت کا نوٹس لیکر سدباب کیا جائے اور افغانستان کو آبادی خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور سیلابوں کے باعث جنوبی پشتونخوا کے تمام اضلاع کو آفت زدہ قرار دینا اور لوگوں کے نقصانات کا ازالہ کرنا ضروری ہے۔ NDMAاور PDMAنے صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے حقیقی بنیادوں پر ایک ایسا میکنزم بنانا ہوگا جو حقیقی متاثرین تک امداد کو پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ سول ہسپتال میں جاں بحق ہونیوالوں سمیت پشتونخوا وطن کے تمام قومی رہنماؤں اور قومی شہدا کی یاد کو ہمیشہ تازہ رکھ کر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے ملی ارمانوں کی تکمیل کی خاطر ہر قسم کے گمبھیر حالات میں قربانیوں سے لبریز جدوجہد کو جاری رکھا جائیگا۔ انہوں نے پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جانب سے سانحہ 8اگست 2016ء میں جاں بحق ہونیوالوں کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کے انعقاد کا اقدام سراہتے ہوئے انھیں ان کی ہمت وجرات پر داد وتحسین پیش کیا۔
[…] زیارت زیرو پوائنٹ پر برف باری سنجاوی بٹے تیر پر بارش سے زیارت سنجاوی میں سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا۔ اتوار اورسموار کی درمیانی شب وادی زیارت کے زیروپوائنٹ پر برف باری اور سنجاوی کے علاقے بٹے تیر میں ہلکی ہلکی بارش اور دن بھر سرد ہواؤں سے زیارت اور سنجاوی میں موسم انہتائی سرد سردی کی شدت میں اضافے کی وجہ سے سرے شام زیارت اور سنجاوی شہر سنسان دکانداروں شہریوں نے شام سے پہلے دکانیں بند اور گھروں کا رخ کرلیا سردی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی زیارت سنجاوی کے مکینوں نے انگھی ٹیاں اور گرم ملبوسات نکال لیں دوسری جانب سردی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی کوئلہ اور سوکھی لکڑیوں کی مانگ میں اضافہ دیکھ کر قیمتوں کو بھی پر لگ گئی۔یاد رہے زیارت سنجاوی میں سردیوں کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی زیارت سنجاوی کے بہت سے گھرانے گرم علاقوں کی طرف نکل مکانی کرتے ہیں جو رہے جاتے ہیں وہ لاندی کرتے ہیں اور سردیوں کو دور کرتے ہیں۔ […]