سیلابی تباہ کاریوں کا عملی منظر پیش کر رہا ہے پانچ ارب روپے کا مالی امدادی پیکج ناکافی ہے اضافہ کیا جائے ،نواب ثناء اللہ خان
خضدار پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سابق وزیراعلی بلوچستان چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ بلوچستان بارشوں اور سیلاب سے تباہی کا عملی منظر پیش کر تا نظر آ رہا ہے 200 سے زیادہ افراد اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں سینکڑوں کی تعداد میں افراد زخمی ہزاروں مکانات منہدم ہو گئے ہیں جس سے سیلاب متاثرین کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہے، ان کے مال مویشی زندگی بھر کی جمع پونجی ٹیوب ویل زراعت تباہ و برباد ہوگئے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری دبئی سے بذریعہ ٹیلی فونک پیپلز پارٹی ضلع خضدار کے انفارمیشن سیکرٹری نصراللہ شاہوانی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ یہ بارشیں قدرتی آفات ہے اللہ پاک اپنے فضل اور کرم سے اہل بلوچستان کو محفوظ رکھے انسان ایک کمزور ذات ہے اسطرح کے بارشون کی مزید سکت نہیں رکھتے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی سیلاب متاثرین کی دوبارہ بحالی کے لیے حکومت سے مل کر ٹھوس اقدامات کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے جس 5ارب مالی امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے وہ ناکافی ہے ،بلوچستان ایک پسماندہ صوبہ ہے حکومت بلوچستان کے وسائل بہت کم ہے اس لیے وزیراعظم پاکستان کو چاہیے اس مالی امدادی پیکیج میں اربوں روپے کا مزید اضافہ کریں ۔نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا کہ اس نازک صورتحال کے موقع پر حکومت اور اپوزیشن کو ایک ہو کر مصیبت میں مبتلا عوام کی مدد کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ قوم افواج پاکستان اور حکومت مل کر اس مشکل صورتحال سے نکل سکتے ہیں ہمیں صبر و استقامت کے ساتھ اس قدرتی افت کے موقع پر مشکل صورتحال سے نکلنا ہوگا ملک اور صوبے کی مخیر حضرات امدادی تنظیمیں اس مشکل وقت میں سیلاب متاثرین کی بھرپور مدد کر کے اس کار خیر مین اپنا حصہ بھی ڈالین تب ہی ہم صوبے اور ملک کو اس ناگہانی آفات اور مشکلات سے نکال سکتے ہیں ،اس وقت قوم اجتماعی مصیبت کا شکار ہے ،ہم نے متحد ہوکر قوم اور ریاست کو اس نازک مشکل حالات سے نکالنے مین اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ،سیلاپ متاثرین اس وقت انہیں کی طرف دیکھ رہے ہیں ،میں اپیل کرتا ہوں حکومت سے بلوچستان کو آفت زدہ صوبہ قرار دیکر تمام سرکاری واجبات معاف کیا جائے کیوں کہ سیلاب نے بلوچستان کو ڈبو دیا ہے ہرطرف تباہی بربادی بلوچستان میں رابطہ سڑکوں پلوں کو شدید نقصان پہنچاہے ،بلوچستان میں سیلاب متاثرین کی بحالی اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہے ،سیلاب سے اتنی بڑی تباہی ہوئی ہے کہ اب تک کء علاقوں تک امداد پہنچی ہی نھی ہے لوگ کسی معجزے کی منتظر ہے حکومت کو چاہیے ریلیف کے کاموں کو مزید تیز کیاجائے تاکہ بروقت متاثریں تک امداد پہنچے ۔چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا کہ ہالیہ سیلابوں میں لوگوں کے جانی و مالی نقصانات پر بہت افسردہ ہوں شہیداء کے خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتا ہوں اللہ پاک انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور ان کے خاندان کی مشکلات کو آسان کریں۔