نوشکی اور کوہلو میں غدائی اجناس کی قلت، اشیاء خورونوش عوام کی دسترس سے باہر
نوشکی، کوہلو بلوچستان میں سیلاب زدہ علاقوں میں غذائی اجناس کی قلت۔ نوشکی میں بجلی پانی موبائل نیٹ ورک کے بعد آٹے کی قلت کا بحران سر اٹھالیا جمعرات کے روز پورے ضلع کی دکان مارکیٹ اور کاروباری مراکز میں ایک تھیلا آٹا بھی دستیاب نہیں تھا شہریوں کو آٹے کے حصول کے لیئے کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ایک ڈیلر نے بتایا کہ کوئیٹہ سے آگے تمام شاہراہیں سیلاب کی وجہ سے بند ہیں جس کی وجہ سے لوڈ گاڑیاں نوشکی پہنچ نہیں پاتی یاد رہے نوشکی میں گزشتہ دس روز سے جاری بجلی کی طویل بندش سے نظام زندگی بری طرح متاثر ہے مقامی فلور مل اور چکیاں بھی بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بند ہیں جس کی بھی سے آٹے کی قلت شدت اختیار کر رہی ہے سیلاب سے متاثر نوشکی کے عوام ان دنوں پانی بجلی گیس اشیا خوردنوش موبائل نیٹ ورک انٹرنیٹ کی بندش جسے اہم مسائل سے دوچار ہیں لوگ زہنی کوفت اور شدیس پریشانی کا شکار ہیں۔ ضلع میں حالیہ سیلاب کے دوران مختلف علاقوں میں تاحال رابطہ سڑکیں بحال نہیں ہوسکی ہیں جس کی وجہ سے ضلع میں سبزی اور اشیا خوردنوش کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے تفصیلات کے مطابق کوہلو کا پنجاب،سبی اور دکی سمیت مختلف علاقوں سے زمینی رابطے سیلابی ریلوں اور سڑکیں بہہ جانے کی وجہ سے گزشتہ تین ہفتوں سے معطل ہیں جس کی وجہ سے اشیا ء خوردنوش کی ترسیل نہ ہونے سے ضلع میں سبزی سمیت دیگر کھانے پینے کے اشیاء کا شدید بحران پیدا ہوچکا ہے شہریوں کے مطابق سیلاب نے سر چھت اور گھر تو پہلے سے چین لیے ہیں مگر اب رابطہ سڑکیں بحال نہ ہونے سے سبزی اور خوردنی اشیاء بھی عوام کی دسترس باہر ہوگئی اس وقت کوہلو کا مختلف نواحی علاقوں تھدڑی،تمبیلی اور کاہان سے زمینی رابطے بھی بحال نہیں ہوسکے ہیں جس کی وجہ سے ان علاقوں میں لوگوں کے پاس اشیاء خوردنوش کا بحران ہے کئی علاقوں میں لوگ نقل مکانے پر مجبور ہوگئے ہیں انہوں نے صوبائی و ضلعی انتظامیہ سے فوری رابطہ سڑکیں بحال کرنے کامطالبہ کیا ہے۔