سیلاب مزيد 57 جانیں نگل گیا، دریائے سندھ میں پانی کی سطح بدستور بلند

0 162

ملک میں سیلاب سے 24 گھنٹوں کے دوران مزید 57 افراد جاں بحق ہوگئے، جب کہ 7683 افراد زخمی بھی ہوئے۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب سے مزید 57 افراد جان کی بازی ہار گئے، اور مرنے والوں کی مجموعی تعداد 1 ہزار 243 ہوچکی ہے۔

این ڈی ایم اے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 24 گھنٹوں کے دوران سندھ میں 38، کے پی 17،کشمیر اور بلوچستان میں ایک ایک موت رپورٹ ہوئی، اور ان میں 22 مرد، 18 خواتین اور 17 بچے بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس دوران مزید 7683 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، اور سب سے زیادہ 7204 افراد سندھ میں زخمی ہوئے ہیں، جس کے بعد ملک بھر میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 12577 ہوگئی ہے۔

سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر این ڈی ایم اے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں 500 کلوميٹر سڑکوں کو نقصان پہنچا، اور ملک بھر میں 5563 کلوميٹر سڑکیں بارشوں اور سيلاب سے متاثر ہوچکی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران مزيد 3766 مال مويشيوں کو نقصان پہنچا، اور یہ تعداد بڑھ کر 7 لاکھ 35 ہزار 584 ہوگئی ہے۔

این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق ملک بهر میں 8 لاکھ 97 ہزار 567 گھروں کو جزوى طور پر نقصان پہنچا، اور حاليہ بارشوں اور سيلاب سے 5 لاکھ 29 ہزار 472 گھر مکمل تباہ ہوئے۔

این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ملک بهر کے 80 اضلاع حاليہ بارشوں اور سيلاب سے شدید متاثر ہيں، اور ملک بھر میں 3 کروڑ 30 لاکھ 46 ہزار 329 افراد بارشوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

سندھ

دریائے سندھ میں کندھ کوٹ کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہونے سے کئی گاؤں زیر آب آگئے ہیں، کچے کے علاقے میں محصور افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

سانگھڑ کے چک نمبر 7 اور 11 کا شہر سے زمینی رابطہ منقطع ہے اور علاقے میں کشتیاں چلنے لگی ہیں۔

منچھر جھیل میں پانی کی سطح 122 فٹ سے تجاوز کر گئی ہے، جس کی وجہ سے قریبی دیہات کے ڈوبنے کا خطرہ ہے، علاقہ مکین کہتے ہیں شگاف پڑا تو سیہون اور وزيراعلیٰ سندھ کے گاؤں سمیت اطراف کے علاقے بھی ڈوب جائیں گے۔

جوہی کا ضلع دادو سے تیسرے روز بھی زمینی راستہ بحال نہ ہوسکا، دادو میں دو لاکھ کے قریب متاثرین سڑکوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

مٹیاری کے کئی علاقوں سے بارش کے پانی کی نکاسی نہ ہو سکی۔بھٹ شاہ، سعید آباد اور اڈیرو لعل میں دو سے چار فٹ تک پانی ہے۔ٹنڈوالہٰیار ميں بھی بارشوں اورسيلاب سے کئی گھر اب بھی پانی میں ڈوبے ہیں۔

سیلابی صورت حال

سندھ کے تینوں بڑے بیراجوں پر سیلابی صورت حال ہے، دريائے سندھ ميں کندھ کوٹ کے مقام پر پانی کی سطح انتہائی بلند ہوگئی ہے، گڈو بيراج سے پانچ لاکھ تريپن ہزار کيوسک کا بڑا ريلا گزر رہا ہے۔

سندھ کے وزير آب پاشی جام خان شورو کا کہنا ہے کہ آج سکھر بیراج سے پانچ لاکھ ساٹھ کیوسکس کا آخری ریلا گزرے گا۔ اتوار سے پانی کی سطح کم ہونا شروع ہو جائے گی

Leave A Reply

Your email address will not be published.