بلوچستان پنجاب قومی شاہراہ گزشتہ ایک ہفتے سے بند ،صوبے کے مختلف اضلاع میں اشیاء خوردنوش کا بحران جنم لینے لگا
کوہلو بلوچستان پنجاب قومی شاہراہ گزشتہ ایک ہفتے سے بند ہونے کی وجہ سے صوبے کے مختلف اضلاع میں اشیاء خوردنوش کا بحران جنم لینے لگا ۔ تفصیلات کے مطابق رکھنی سے متصل فورٹ منرو میںحالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث بلوچستان پنجاب قومی شاہراہ میں گزشتہ ایک ہفتے سے ٹریفک تعطل کا شکار ہے قومی شاہراہ کے مختلف مقامات راکھی گاج ،بواٹہ میں کئی ٹرک الٹنے سے مختلف مقامات پر گاڑیاں اور ڈرائیور پھنس گئیں ہیں جس کی وجہ سے گاڑیوں کی 60سے 80کلومیٹر تک طویل لاینیں لگ گئی ہیں جس کی وجہ سے کوہلو،بارکھان سمیت شمال مشرقی بلوچستان کے مختلف اضلاع میں اشیاء خوردنوش کا ترسیل نہ ہونے سے آٹا ،پیاز ،ٹماٹر اور دیگر اشیاء خوردنوش کا بحران پیدا ہوگیا ہے جبکہ کئی علاقوں میں قیمتیں آسمان تک پہنچ گئی ہیں آٹے کا 20کلو تھیلہ2200سے 2300روپے میں فروخت ہونے لگا ہے جبکہ ٹماٹر اور پیاز بھی مارکیٹوں سے غائب ہوگئے ہیں اور قیمتوں میں ہوش ہربا اضافے نے سیلاب اور بارشوں کے ستائے ہوئے لوگوں سے اب اشیاء خورد نوش بھی چین لیا ہے جس کی وجہ سے جہاں عام آدمی پریشان ہے وہی دوکانداروں کا کاروبار بھی ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے جس سے ان کے لئے قومی شاہراہ کی بندش درد سر بن گیا ہے دوکانداروں اور پھنسے ہوئے مسافروں اور ڈائیورز نے بلوچستان اور پنجاب کی صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان پنجاب قومی شاہراہ پر فوری ٹریفک کی آمدورفت کو بحال کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ناصرف پھنسے ہوئے مسافروں اور ڈرائیوز کا مسئلہ حل ہوسکے بلکہ صوبے کے مختلف علاقوں میں اشیاء خوردنوش کی فراہمی بھی یقینی ہوسکے اور بارشوں و سیلاب کے ستائے ہوئے لوگوں تک اشیاء ضروریہ مناسب قیمتوں میں دستیاب ہوسکیں ۔