احتجاج کے باعث فرانسیسی صدارتی محل کے راستے سیل،مسلح فوجی دستے تعینات

0 121

پیرس (امروز نیوز)فرانس میں زرد صدری تحریک کی طرف سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بڑی تعداد نے صدارتی محل شانزلیزا کے داخلی راستے سیل کر دئیے ، مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس نے اہم مقامات پر پوزیشنیں سنبھال لیں اور پیرس کی مشہور زمانہ یادگارمحراب آزادی پر بھی پولیس کے مسلح دستے تعینات کردیئے گئے ،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق زرد صدری تحریک کی طرف سے اتوار کو مظاہروں کی کال کے بعد دارالحکومت پیرس بالخصوص صدارتی محل اور دارالحکومت کے دائیں اور بائیں اطراف اور اہم مقامات پر پولیس اور فوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی ۔اس سے قبل فرانسیسی وزیراعظم ایڈورڈ فلپ نے پیرس میں پولیس ہیڈ کواٹر کا دورہ کیا۔ وزیرداخلہ کریسٹوف کاسٹانیز بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیراعظم اور وزیرداخلہ نے زرد صدری تحریک کے مظاہرین کی طرف سے احتجاج کی کال کے بعد دارالحکومت میں سیکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ وزیراعظم نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ وہ امن وامان برقرار رکھنے کے لیے ہرممکن اقدامات کریں اور مظاہروں کی آڑ میں توڑپھوڑ اور افراتفری پھیلانے کی اجازت نہ دی جائے۔پولیس کے ساتھ ساتھ فوج نے بھی دارالحکومت میں اہم مقامات پر پوزیشنیں سنبھال لیں۔ خیال رہے کہ گذشتہ 19 ہفتوں سے فرانس میں صدر عمانوایل ماکروں کے خلاف احتجاجی تحریک جاری ہے۔ یہ تحریک میڈیا میں زرد صدری تحریک کے نام سے مشہور ہوئی ہے۔ اس میں حصہ لینے والے افراد زرد رنگ کی جیکٹیں پہن کر آتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.