ایون فیلڈ ریفرنس: 21 ستمبر تک نیب سے دلائل طلب

0 157

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزاؤں کیخلاف پاکستان مسلم لیگ نواز ( ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر اعوان کی اپیلوں پر نیب سے اکیس ستمبر کو دلائل طلب کرلئے ہیں۔ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آج تک نیب نے کسی رپورٹ، ریفرنس، فرد جرم یا فیصلے میں ذرائع آمدن بتائے نہ فلیٹس کی قیمت کا تعین کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کی رہنما مریم نواز اور محمد صفدر اعوان کی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔ سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل بینچ نے کی۔ سماعت کا آغاز ہوا تو مریم نواز شریف کے وکیل نے معزز عدالت کے روبرو دلائل کا آغاز کیا۔ امجد پرویز ایڈووکیٹ نے روسٹرم پر آکر کہا کہ مریم نواز کے خلاف رابرٹ ریڈلے بطور گواہ پیش ہوئے تھے، جے آئی ٹی نے رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ پر ٹرسٹ ڈیڈ کو جعلی قرار دیا۔

وکیل امجد پرویز نے بتایا کہ فائنڈنگ دی گئی کہ کیلبری فونٹ اس وقت نہیں تھا جب ٹرسٹ ڈیڈ تیار ہوئی، میں نے عدالتی معاونت کیلئے پیپر بکس تیار کی ہیں، نیب کے شواہد میں مریم نواز کی حد تک واحد چیز رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ تھی۔ میں نے رابرٹ ریڈلے سے متعلق ہی دو صفحات تیار کیے ہیں۔ وکیل امجد پرویز نے بتایا کہ ایک ایکسپرٹ کی رائے کو اس کیس میں بنیادی شواہد کے طور پر لیا گیا ہے، ایکسپرٹ کی رائے کبھی بھی بنیادی شہادت نہیں ہوتی، محض ایک ایکسپرٹ کی رائے پر سزا سنا دینا درست نہیں۔

وکیل کے مطابق جرح میں بتایا گیا کہ ٹرسٹ ڈیڈ کی تاریخ سے قبل یہ فونٹ ڈاؤن لوڈ کرکے استعمال کیاچکا تھا، وہ خود اس بات کا اعتراف بھی کرچکا ہے کہ وہ فونٹ ایکسپرٹ بھی نہیں۔ اس موقع پر جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس دیے کہ پھر تو سارا ثبوت ہی ختم ہوگیا، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ اس ٹرسٹ ڈیڈ کی بنیاد پر اس خاتون نے فائدہ کیا لیا؟ کچھ بھی نہیں، کسی کا اثاثہ کبھی بھی نہیں چھپ سکتا۔

امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم اس ڈاکیومنٹ کے وجود کو مانتے ہیں، مریم نواز کو اس ٹرسٹ ڈیڈ کی بنیاد پر سزا بھی نہیں دی گئی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ جو بھی فونٹ بنتا ہے وہ کہیں رجسٹر تو ہوتا ہوگا، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیا کیلبری کے رجسٹر ہونے سے متعلق کوئی چیز ریکارڈ پر آئی کہ کب ہوا؟ امجد پرویز ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ یہ ریکارڈ پر لانا نیب کی ذمہ داری تھی ہماری نہیں، رابرٹ ریڈلے نے خود کہا وہ اپریل 2005 میں خود یہ فونٹ استعمال کرچکے ہیں۔ پراسیکیوشن کا کہنا ہے ٹرسٹ ڈیڈ کی تاریخ غلط ہے۔ رابرٹ ریڈلے نے تسلیم کیا کہ اپریل 2005ءمیں وہ خود یہ فونٹ استعمال کرچکے۔ نیب کے بقول جرم 1993ء میں ہوا،مریم نے 2006ء میں دستخط کرکے معاونت کی۔ یہ بات آج تک سمجھ میں نہیں آئی کہ اتنے سال بعد معاونت کیسے ہوئی؟۔

عدالت نے استفسار کیا کہ جس ٹرسٹ ڈیڈ کی بنیاد پر مریم نواز کو سزا سنائی گئی وہ اصل دستاویز کہاں ہے؟ جواباً وکیل کا کہنا تھا کہ ہم نے تصدیق شدہ کاپی جے آئی ٹی کو دی اسی پر کیس بنا دیا گیا، عدالت نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ‏تو کیا احتساب عدالت نے ٹرسٹ ڈیڈ کی کاپی پر سزا دے دی؟ جس پر امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس کیس پر نیب کا پرانا قانون لگائیں یا نیا، بنتی بریت ہی ہے، ایون فیلڈ فلیٹس کی قیمت کا بھی آج تک تعین نہیں کیا گیا، اثاثے کی مالیت اور ذرائع آمدن کا ذکر ضروری ہے ورنہ بار ثبوت منتقل نہیں ہوتا، اس معاملے میں نواز شریف کے خلاف بنیادی کیس ہی نہیں بنتا، جب بنیادی کیس ہی نہیں بنتا تو پھر اعانت جرم کا تو سوال ہی نہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ پھر تو یہ کیس ختم ہی ہوگیا ہے، امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ ریڈلے نے جرح میں مانا کہ وہ کمپیوٹر ایکسپرٹ ہی نہیں ہے۔ جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا کہ وہ ایکسپرٹ نہیں تو پھر اس کے شواہد ہی ختم ہو جاتے ہیں، ٹرسٹ ڈیڈ درست ہے تو اس کا اثر کیا پڑتا ہے؟

امجد پرویز ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ کوئی اثر نہیں پڑتا، اس کا کوئی بھی فائدہ نہیں اٹھایا گیا، پراپرٹی اسی فیملی کی تھی،اسی میں رہنی تھی، ابھی تک اسی کو بھگت رہے ہیں۔ وکیل مریم نواز نے کہا کہ میری مؤکلہ نہ کبھی وہاں رہیں نہ ہی کبھی انہیں کوئی کرایہ آیا، جب کہ پراسیکیوشن مریم نواز کو بینیفشل مالک کہہ رہی ہے۔ ایک ایکسپرٹ کی رائے کو بنیادی شواہد کے طور پر لیا جانا درست نہیں۔ برطانوی قوانین میں کہیں بھی ٹرسٹ ڈیڈ رجسٹر کرانا ضروری نہیں۔

جسٹس فاروق نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی ملزم کیس میں اشتہاری قرار پا چکے ان کا کیس الگ ہے، ہم نے اب صرف مریم اور صفدر کی حد تک کیس دیکھنا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے 21 ستمبر تک نیب سے دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.