سوات،عسکریت پسندوں نے نجی موبائل فون کمپنی کے مزید 2 مغوی ملازمین کو رہا کردیا

0 134

سوات،عسکریت پسندوں نے نجی موبائل فون کمپنی کے مزید 2 مغوی ملازمین کو رہا کردیا

سوات میں عسکریت پسندوں نے نجی موبائل کمپنی کے مزید 2 مغوی ملازمین کو رہا کردیا۔نجی ٹی وی کے مطابق ایک مغوی شخص نے بتایا کہ وہ اور دیگر 6 ملازمین برتھانہ پہاڑی کے قریب موبائل فون ٹاورمیں کام کررہے تھے، اسی دوران 10 نقاب پوش اسلحہ بردار افراد نے ہمارے آنکھوں پر پٹی باندھی اور ہمیں اغوا کر کے کسی نامعلوم جگہ پر لے گئے۔اغوا کیے گئے 7 افراد میں یوسف شاہ، محمد خالق، ارسلان، محمد اصبر ملک، محمد حکیم، وقات علی اور قیقم خان شامل ہیں۔انہوںنے کہاکہ نامعلوم مقام پر مسلح افراد نے ہم سے سوال پوچھنا شروع کردیے، انہوں نے بتایا کہ محمد اصبر ملک، عبدالحکیم، وقات علی اور قیوم خان سمیت 5 افراد کو رہا کردیا گیا جبکہ یوسف شاہ اور محمد خالق کو اغوا کاروں نے اپنے ساتھ رکھا تھا۔انہوںنے کہاکہ انتہاپسندوں نے مزید 2 ساتھیوں کی رہائی کیلئے ایک کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا، انہوں نے بتایا کہ مجھے معلوم ہوا کہ مزید 2 لوگوں کو بھی رہا کردیا گیا، میں نے انہیں کال کرنے کی کوشش کی لیکن ان کے موبائل فون بند تھے۔ایک ٹھیکیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ برتھانہ کے علاقے کے قریب جانہ پہاڑوں پر وہ موبائل فون ٹاور کا جائزہ لے رہے تھے، انہوں نے کہا کہ ‘13 ستمبر کو میں ٹاور کی تنصیب کیلئے وہاں ضروری سامان لینے گیا تھا، جب میں ٹاور پہنچا تو مقامی لوگوں سے معلوم ہوا کہ 7 مزدوروں کو عسکریت پسندوں نے اغوا کر لیا ہے۔انہوںنے کہاکہ ابتدائی طور پر عسکریت پسند ایک کروڑ روپے کا مطالبہ کررہے تھے تاہم تمام مغوی افراد کو بغیر کسی تاوان کے رہا کر دیا گیا۔یاد رہے حال ہی میں سوات کے کئی بزرگ شہری اور منتخب نمائندوں سمیت کئی لوگوں نے شکایت کی تھی کہ مغوی افراد کی رہائی کے بدلے بھاری رقم ادا کرنے کے لیے عسکریت پسندوں کی جانب سے ٹیلی فون کال اور پیغامات موصول ہوئے۔چپڑیل پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او محمد زیب خان نے مزید 2 افراد کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے تعزیرات پاکستان کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت ایف آئی آر درج کر کے سرچ آپریشن شروع کردیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.