روس پر یوکرین کے خلاف جنگ میں سابق افغان فوجیوں کو استعمال کرنے کا الزام

0 215

طالبان کے دوبارہ برسراقتدار آنے سے قبل افغان فوج کے سابق جرنیلوں نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ سابق افغان فوجیوں کو بھرتئ کرکے انہیں یوکرین کے خلاف جنگ میں جھونک رہا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’

افغانستان میں طالبان کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد امریکا سے تربیت حاصل کرنے والے سابق افغان فوجی ایران اور دیگر پڑوسی ملک چلے گئے تھے۔ اعلیٰ ترین عکسری تربیت کے حامل یہ سابق فوجی اب روس کی طرف سے یوکرین کے خلاف جنگ لڑنے کے لئے تیار ہیں۔

روس کی جانب سے ان سابق فوجیوں کو ڈیڑھ ہزار امریکی ڈالر ماہانہ کے علاوہ محفوظ پناہ گاہوں کی پیش کش بھی کی گئی ہے، تاکہ وہ اور ان کے گھر والے افغانستان نہ جاسکیں۔

سابق افغان حکومت میں فوج کے جنرل عبدالرؤف ارغندیوال نے کہا ہے کہ ان فوجیوں کو ویگنر گروپ نامی ایک روسی گروپ بھرتی کررہا ہے۔ یہ سابق افغان فوجی روس کی جنگ لڑنا نہیں چاہت، لیکن ان کے پاس کوئی چارہ بھی نہیں۔

طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے افغان فوج کے آخری سربراہ جنرل ہیبت اللہ علی زئی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کو سابق افغان فوجیوں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لئے ایک سابق اعلیٰ عہدے دار کی معاونت بھی حاصل ہے جو کہ فوجیوں سے ان کی اپنی مادری زبان میں بات کرتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.